خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 304
خطبات مسرور جلد 12 304 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مئی 2014ء کہ اندر ہی اندر اعمال کو کھا تا رہتا ہے۔خدا تعالیٰ بڑا کریم ہے لیکن اس کی طرف آنے کے لئے عجز ضروری ہے۔(عاجزی ہوگی تو اللہ کے قریب آؤ گے ) ” جس قدر انانیت اور بڑائی کا خیال اس کے اندر ہوگا خواہ وہ علم کے لحاظ سے ہو، خواہ ریاست کے لحاظ سے، خواہ مال کے لحاظ سے، خواہ خاندان اور حسب نسب کے لحاظ سے، تو اس قدر پیچھے رہ جاویگا۔اسی لئے بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ سادات میں سے اولیاء کم ہوئے ہیں کیونکہ خاندانی تکبر کا خیال ان میں پیدا ہو جاتا ہے۔قرونِ اولیٰ کے بعد جب یہ خیال پیدا ہوا تو یہ لوگ رہ گئے۔“ فرمایا کہ اس قسم کے حجاب انسان کو بے نصیب اور محروم کر دیتے ہیں۔بہت ہی کم ہیں جوان سے نجات پاتے ہیں۔امارت اور دولت بھی ایک حجاب ہوتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 112 113 ) اور یہی چیزیں، دولت بھی اور امارت بھی ہیں جو احکامات کی بجا آوری سے روکتی ہیں اور جب احکامات پر عمل نہ ہو تو پھر توحید سے انسان دور ہو جاتا ہے۔آپ کا ایک الہام ہے کہ انت منی و انا مِنْكَ ( اس کے بارہ میں ) آپ سے سوال کیا گیا کہ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ تو مجھ میں سے ہے اور میں تجھ میں سے یہ تو تو حید کے خلاف ہے۔فرمایا کہ آنت مینی تو بالکل صاف ہے اس پر کسی قسم کا اعتراض اور نکتہ چینی نہیں ہوسکتی۔میرا ظہور محض اللہ تعالیٰ ہی کے فضل سے ہے اور اسی سے ہے۔یعنی (آنت میٹی کا مطلب ہی یہ ہے کہ جو کچھ ملا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملا ہے۔اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔) پھر فرماتے ہیں کہ یا د رکھنا چاہئے کہ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جیسا قرآن شریف میں بار بار اس کا ذکر ہوا ہے وحدہ لاشریک ہے نہ اس کی ذات میں کوئی شریک ہے نہ صفات میں نہ افعال الہیہ میں۔سچی بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان کامل اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک انسان ہر قسم کے شر سے پاک نہ ہو۔تو حید تب ہی پوری ہوتی ہے کہ وہ در حقیقت اللہ تعالیٰ کو کیا با اعتبار ذات اور کیا ) با اعتبار صفات کے اصل اور افعال کے بے مثل مانے۔“ ( اب اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے حساب سے یہی سمجھے کہ اسی کی طرف ساری منسوب ہوتی ہیں۔اسی کی ذات اور صفات جو ہیں وہ ہر چیز پر حاوی ہیں اور جو کام ہیں ان کے جیسے بے مثل نتائج اللہ تعالی پیدا فرماسکتا ہے اور کوئی پیدا نہیں فرما سکتا۔) فرمایا: ”نادان میرے اس الہام پر تو اعتراض کرتے ہیں اور سمجھتے نہیں کہ اس کی حقیقت کیا ہے لیکن اپنی زبان سے ایک خدا کا اقرار کرنے کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کی صفات دوسرے کے لئے تجویز