خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 305 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 305

خطبات مسرور جلد 12 305 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مئی 2014ء کرتے ہیں جیسے حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی اور میت مانتے ہیں۔“ ( زندہ کرنے والا اور مردہ کرنے والا مانتے ہیں۔مارنے والا مانتے ہیں۔” عالم الغیب مانتے ہیں۔الحی القیوم مانتے ہیں۔کیا یہ شرک ہے یا نہیں؟ یہ خطرناک شرک ہے جس نے عیسائی قوم کو تباہ کیا ہے اور اب مسلمانوں نے اپنی بدقسمتی سے اُن کے اس قسم کے اعتقادوں کو اپنے اعتقادات میں داخل کر لیا ہے۔پس اس قسم کے صفات جو اللہ تعالیٰ کے ہیں کسی دوسرے انسان میں خواہ وہ نبی ہو یا ولی تجویز نہ کرے اور اسی طرح خدا تعالیٰ کے افعال میں بھی کسی دوسرے کو شریک نہ کرے۔دنیا میں جو اسباب کا سلسلہ جاری ہے بعض لوگ اس حد تک اسباب پرست ہو جاتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں۔توحید کی اصل حقیقت تو یہ ہے کہ شرک فی الاسباب کا بھی شائبہ باقی نہ رہے۔خواص الاشیاء کی نسبت کبھی یہ یقین نہ کیا جاوے ( یعنی جو چیزوں میں خواص ہوتے ہیں ان کے بارے میں یہ یقین نہ کیا جائے۔) " کہ وہ خواص ان کے ذاتی ہیں بلکہ یہ مانا چاہیئے کہ وہ خواص بھی اللہ تعالیٰ نے ان میں ودیعت کر رکھے ہیں۔جیسے تربد ( ایک بوٹی ہے ) اسہال لاتی ہے یا سم الفار ہلاک کرتا ہے۔“ ( ایک زہر ہے اب یہ قو تیں اور خواص ان چیزوں کے خود بخود نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اُن میں رکھے ہوئے ہیں۔اگر وہ نکال لے تو پھر نہ تر بد دست آور ہوسکتی ہے اور نہ سنکھیا ہلاک کرنے کی خاصیت رکھ سکتا ہے، نہ اسے کھا کر کوئی مرسکتا ہے۔غرض اسباب کے سلسلہ کو حد اعتدال سے نہ بڑھا دے اور صفات و افعال الہیہ میں کسی کو شریک نہ کرے تو توحید کی حقیقت متحقق ہوگی اور اسے موحد کہیں گے لیکن اگر وہ صفات و افعال الہیہ کو کسی دوسرے کے لئے تجویز کرتا ہے تو وہ زبان سے گو کتنا ہی تو حید ماننے کا اقرار کرے وہ موحد نہیں کہلا سکتا۔ایسے موحد تو آریہ بھی ہیں جو اپنی زبان سے کہتے ہیں کہ ہم ایک خدا کو مانتے ہیں لیکن باوجود اس اقرار کے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ روح اور مادہ کو خدا نے پیدا نہیں کیا۔وہ اپنے وجود اور قیام میں اللہ تعالیٰ کے محتاج نہیں ہیں گویا اپنی ذات میں ایک مستقل وجود رکھتے ہیں۔( یہ روح اور مادہ۔اس سے بڑھ کر اور کیا شرک ہوگا ؟ اسی طرح پر بہت سے لوگ ہیں جو شرک اور توحید میں فرق نہیں کر سکتے۔ایسے افعال اور اعمال اُن سے سرزد ہوتے ہیں یا وہ اس قسم کے اعتقادات رکھتے ہیں جن میں صاف طور پر شرک پایا جاتا ہے مثلاً کہہ دیتے ہیں کہ اگر فلاں شخص نہ ہوتا تو ہم ہلاک ہو جاتے یا فلاں کام درست نہ ہوتا۔پس انسان کو چاہئے کہ اسباب کے سلسلہ کو حد اعتدال سے نہ بڑھادے اور صفات و افعال الہیہ میں کسی کو شریک نہ کرے۔“ فرمایا کہ انسان میں جو قو تیں اور ملکات اللہ تعالیٰ نے رکھے ہیں ان میں وہ حد سے نہیں بڑھ سکتے