خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 301
خطبات مسرور جلد 12 301 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مئی 2014ء یعنی ہم نے اپنے پہلے باپ دادوں میں اس قسم کا واقعہ ہوتے نہیں دیکھا نہ سنا۔توحید اور شرک فی الاسباب کے بارے میں فرماتے ہیں کہ تو حید اس کا نام نہیں کہ صرف زبان سے اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رسُولُ اللہ کہہ لیا۔بلکہ توحید کہ یہ معنی ہیں کہ عظمت الہی بخوبی دل میں بیٹھ جاوے اور اس کے آگے کسی دوسری شئے کی عظمت دل میں جگہ نہ پکڑے۔ہر ایک فعل اور حرکت اور سکون کا مرجع اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کو سمجھا جاوے اور ہر ایک امر میں اسی پر بھروسہ کیا جاوے کسی غیر اللہ پر کسی قسم کی نظر اور توکل ہر گز نہ رہے اور خدا تعالیٰ کی ذات میں اور صفات میں کسی قسم کا شرک جائز نہ رکھا جاوے۔اس وقت مخلوق پرستی کے شرک کی حقیقت تو کھل گئی ہے اور لوگ اس سے بیزاری ظاہر کر رہے ہیں ( یعنی عیسائی بھی جو حضرت عیسی کو خدا سمجھتے تھے دور ہٹنے لگ گئے ہیں، بیزاری ظاہر کرنے لگ گئے ہیں۔اس لئے یورپ وغیرہ تمام بلاد میں عیسائی لوگ ہر روز اپنے مذہب سے متنفر ہورہے ہیں۔چنانچہ روز مرہ کے اخباروں، رسالوں اور اشتہاروں سے جو یہاں پڑھے جاتے ہیں اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔“ (اس زمانے میں متنفر ہونے کی جو رفتار تھی اب تو اس سے ہزاروں گنا بڑھ گئی ہے بلکہ عملاً بہت سے لوگ صرف کہنے کے لئے نام نہاد عیسائی ہیں۔اس نظریے کو ماننے کے قائل ہی نہیں کہ حضرت عیسیٰ زندہ ہیں یا نہیں ہیں یا خدا ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے وجود کے بھی اسی وجہ سے انکاری ہور ہے ہیں۔) فرمایا کہ الغرض مخلوق پرستی کو اب کوئی نہیں مانتا۔ہاں اسباب پرستی کا شرک اس قسم کا شرک ہے کہ اس کو بہت لوگ نہیں سمجھتے۔مثلاً کسان کہتا ہے کہ میں جب تک کھیتی نہ کرونگا اور وہ پھل نہ لاوے گی تب تک گزارہ نہیں ہو سکتا۔اسی طرح ہر ایک پیشہ والے کو اپنے پیشہ پر بھروسہ ہے اور انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اگر ہم یہ نہ کریں تو پھر زندگی محال ہے۔اس کا نام اسباب پرستی ہے اور یہ اس لئے ہے کہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان نہیں ہے پیشہ وغیرہ تو در کنار پانی، ہوا، غذا وغیرہ جن اشیاء پر مدار زندگی ہے یہ بھی انسان کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے جب تک خدا تعالیٰ کا اذن نہ ہوئے اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔اسی لئے جب انسان پانی پینے تو اسے خیال کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی پیدا کیا ہے اور پانی نفع نہیں پہنچا سکتا جب تک خدا تعالٰی کا ارادہ نہ ہو۔خدا تعالیٰ کے ارادے سے پانی نفع دیتا ہے اور جب خدا تعالیٰ چاہتا ہے تو وہی پانی ضرر دے دیتا ہے۔( نقصان دیتا ہے۔) ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 315-316) فرمایا کہ ایک شخص نے ایک دفعہ روزہ رکھا ہوا تھا تو جب روزہ افطار کیا تو پانی پی لیا اور پانی پیتے