خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 300
خطبات مسرور جلد 12 300 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مئی 2014ء الله (آل عمران : 32 ) یعنی اے رسول! تو ان لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔اللہ تعالیٰ تم کو اپنا محبوب بنالے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع انسان کو محبوب الہی کے مقام تک پہنچا دیتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کامل موحد کا نمونہ تھے۔پھر اگر یہودی توحید کے ماننے والے ہوتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ ایسے موحد سے دُور رہتے۔“ (یعنی پھر ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننا چاہئے تھا ) ” انہیں یا د رکھنا چاہئے تھا کہ خدا تعالیٰ کے خاتم الرسل کا انکار اور عناد نہایت خطرناک امر ہے۔مگر انہوں نے پروانہیں کی اور باوجود یکہ ان کی کتاب میں آپ کی پیشگوئی موجود تھی مگر انکار کر دیا۔اس کی وجہ بجز اس کے اور کیا ہو سکتی ہے کہ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ (الانعام: 44) ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 114-115) ایک موقع پر حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں غلط عقیدے پر ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا کہ اسلام وہ مصفا اور خالص توحید لے کر آیا تھا جس کا نمونہ اور نام ونشان بھی دوسرے ملتوں اور مذہبوں میں پایا نہیں جاتا۔یہاں تک کہ میرا ایمان ہے کہ اگر چہ پہلی کتابوں میں بھی خدا کی توحید بیان کی گئی ہے اور گل انبیاء علیہم السلام کی بعثت کی غرض اور منشاء بھی تو حید ہی کی اشاعت تھی۔لیکن جس اسلوب اور طرز پر خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تو حید لے کر آئے اور جس نہج پر قرآن نے تو حید کے مراتب کو کھول کھول کر بیان کیا ہے کسی اور کتاب میں اس کا ہر گز پر نہیں ہے۔پھر جب ایسے صاف چشمہ کو انہوں نے مکر رکرنا چاہا ہے ( یعنی ان لوگوں نے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت کرتے ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل نہیں ہیں اور خدا تعالیٰ کے مقابل پر بعض جگہ انہوں نے کھڑا کیا ہوا ہے اور پھر بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، ان کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ جب ایسے صاف چشمہ کو انہوں نے یعنی ایسے مسلمان کہلانے والوں نے مکدر کرنا چاہا ہے۔تو بتاؤ اسلام کی توہین میں کیا باقی رہا۔اس پر اُن کی بد قسمتی یہ ہے کہ جب اُن کو وہ اصل اسلام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے پیش کیا جاتا ہے اور قرآن شریف کے ساتھ ثابت کر کے دکھایا جاتا ہے کہ تم غلطی پر ہو تو کہ دیتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا اسی طرح مانتے آئے ہیں۔مگر میں کہتا ہوں کہ کیا اتنی بات کہہ کر یہ اپنے آپ کو بری کر سکتے ہیں؟ نہیں! بلکہ قرآن شریف کے موافق اور خدا تعالیٰ کی سنتِ قدیم کے مطابق اس قول سے بھی ایک حجت اُن پر پوری ہوتی ہے۔جب کبھی کوئی خدا کا مامور اور مرسل آیا ہے تو مخالفوں نے اس کی تعلیم کو سن کر یہی کہا ہے۔مَا سَمِعْنَا بِهذا في ابائِنَا الْأَوَّلِينَ (المؤمنون: 25) 66 ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 254)