خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 299 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 299

خطبات مسرور جلد 12 299 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مئی 2014ء ایک دفعہ ایک مجلس میں ایک سوال ہوا کہ یہودیوں میں بھی تو حید موجود ہے۔اسلام اس سے بڑھ کر کیا پیش کرتا ہے؟ اعتراض کرنے والے نے یہ اعتراض کیا۔آپ نے فرمایا کہ ”یہودیوں میں توحید تو نہیں ہے۔ہاں قشر التوحید بے شک ہے ( کہ توحید کا خول ہے جو موجود ہے۔اور نراقشر کسی کام نہیں آسکتا۔توحید کے مراتب ہوتے ہیں۔بغیر ان کے توحید کی حقیقت معلوم نہیں ہوتی۔نرالا اله الا اللہ ہی کہ دینا کافی نہیں۔یہ تو شیطان بھی کہ دیتا ہے۔جبتک عملی طور پر لا اله الا اللہ کی حقیقت انسان کے وجود میں متحقق نہ ہو۔کچھ نہیں۔یہودیوں میں یہ بات کہاں ہے؟ آپ ہی بتا دیں۔( سوال کرنے والا بھی یہودی تھا۔) ” توحید کا ابتدائی مرحلہ اور مقام تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول کے خلاف کوئی امر انسان سے سرزد نہ ہو۔اور کوئی فعل اس کا اللہ تعالیٰ کی محبت کے منافی نہ ہو۔گو یا اللہ تعالیٰ ہی کی محبت اور اطاعت میں محو اور فنا ہو جاوے۔اسی واسطے اس کے معنے یہ ہیں۔لا مَعْبُودَ لِي وَلَا مَحْبُوبَ لِي وَلَا مَطَاعَ لِي إِلَّا الله - یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی میرا معبود ہے نہ کوئی محبوب ہے اور نہ کوئی واجب الاطاعت ہے۔یا در کھوشرک کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ان میں سے ایک شرک جلی کہلاتا ہے دوسرا شرک خفی۔شرک جلی کی مثال تو عام طور پر یہی ہے جیسے یہ بت پرست لوگ بتوں، درختوں یا اور اشیاء کو معبود سمجھتے ہیں۔اور شرک خفی یہ ہے کہ انسان کسی شئی کی تعظیم اسی طرح کرے جس طرح اللہ تعالیٰ کی کرتا ہے۔“ ( ضرورت سے زیادہ کسی کو عزت و مقام دینا شروع کر دے) تو فرمایا جس طرح اللہ تعالیٰ کی کرتا ہے یا کرنی چاہیے یا کسی شئے سے اللہ تعالیٰ کی طرح محبت کرے یا اس سے خوف کرے یا اس پر توکل کرے۔اب غور کر کے دیکھ لو کہ یہ حقیقت کامل طور پر توریت کے ماننے والوں میں پائی جاتی ہے یا نہیں۔خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی ہی میں جو کچھ ان سے سرزد ہوا۔“ ( بتانے والے کو آپ فرما رہے ہیں کہ ) وہ آپ کو بھی معلوم ہوگا۔اگر توریت کافی ہوتی تو چاہئے تھا کہ یہودی اپنے نفوس کو مزکی کرتے مگر ان کا تزکیہ نہ ہوا۔وہ نہایت قسی القلب اور گستاخ ہوتے گئے۔“ ( حضرت موسیٰ کو بھی جواب دینے لگ گئے تھے۔) ” یہ تاثیر قرآن شریف ہی میں ہے کہ وہ انسان کے دل پر بشر طیکہ اس سے صوری اور معنوی اعراض نہ کیا جاوے۔ایک خاص اثر ڈالتا ہے اور اس کے نمونے ہر زمانہ میں موجود رہتے ہیں۔چنانچہ اب بھی موجود ہے۔قرآن شریف نے فرما یا : قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ