خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 297
خطبات مسرور جلد 12 297 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 مئی 2014ء انحصار ہے وہ توحید پر جا کے ٹھہرے۔وہ انسان کو ( یعنی انبیاء انسان کو ) یہ سکھانا چاہتے ہیں کہ عرب کام ساری عرب تیں ، سارے آرام اور حاجات برآری کا متکفل خدا ہی ہے۔پس اگر اس کے مقابل میں کسی اور کو بھی قائم کیا جاوے تو صاف ظاہر ہے کہ دوضر وں کے تقابل سے ایک ہلاک ہو جاتی ہے۔‘“ (جب دوضدوں کا مقابلہ ہوگا تو لازماً ایک ہلاک ہو گی۔دودشمنوں کا مقابلہ ہوگا، دوفریقین کا مقابلہ ہو گا تو ایک کو بہر حال ہار ماننی پڑے گی۔) فرمایا کہ اس لئے مقدم ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید ہو۔رعایت اسباب کی جاوے۔اسباب کو خدا نہ بنایا جاوے۔‘ ( اسباب کو استعمال کرنا ضروری ہے۔جو ذریعے اللہ تعالیٰ نے مہیا کئے ہیں، وسائل مہیا کئے ہیں ان کو استعمال کر ولیکن ان کو خدا نہ بناؤ۔توحید کو مقدم رکھو۔اسی توحید سے ایک محبت خدا تعالیٰ سے پیدا ہوتی ہے جبکہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ نفع و نقصان اس کے ہاتھ میں ہے۔محسن حقیقی وہی ہے۔ذرہ ذرہ اُسی سے ہے۔کوئی دوسرا درمیان نہیں آتا۔جب انسان اس پاک حالت کو حاصل کرلے تو وہ موحد کہلاتا ہے۔جب یہ حالت ہو جائے گی، مکمل انحصار خدا تعالیٰ پر ہو جائے گا کوئی دوسرا درمیان میں نہیں ہوگا تبھی موحد کہلاؤ گے۔غرض ایک حالت توحید کی یہ ہے کہ انسان پتھروں یا انسانوں یا اور کسی چیز کوخدانہ بنائے بلکہ ان کو خدا بنانے سے بیزاری اور نفرت ظاہر کرے اور دوسری حالت یہ ہے کہ رعایت اسباب سے نہ گزرے۔( یعنی اسباب جو ہیں انہی پر زیادہ انحصار نہ کرے۔حد سے زیادہ نہ بڑھے۔صرف انہی پر چارہ نہ کرے، اپنا مدار نہ رکھے۔) فرمایا کہ " تیسری قسم یہ ہے کہ اپنے نفس اور وجود کے اغراض کو بھی درمیان سے اٹھادیا جاوے“ ( توحید قائم کرنے کے لئے تیسری چیز یہ ہے کہ اپنے نفس کو بھی مٹادو۔اس کی جو غرضیں ہیں، جو ذاتی نفسانی اغراض ہیں ان کو ختم کر دو۔اور اس کی نفی کی جاوے۔بسا اوقات انسان کے زیر نظر اپنی خوبی اور طاقت بھی ہوتی ہے (اکثر یہ ہوتا ہے کہ انسان کی اپنی خوبی اور طاقت بھی ہوتی ہے اور بعض کاموں میں اپنی خوبی اپنی طاقت پر انحصار کر رہا ہوتا ہے۔کہ فلاں نیکی میں نے اپنی طاقت سے کی ہے۔انسان اپنی طاقت پر ایسا بھروسہ کرتا ہے کہ ہر کام کو اپنی قوت سے منسوب کرتا ہے۔انسان موحد تب ہوتا ہے کہ جب اپنی طاقتوں کی بھی نفی کر دے۔لیکن اب اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان جیسا کہ تجربہ دلالت کرتا ہے ( تجربے سے یہ ثابت ہے کہ عموماً کوئی نہ کوئی حصہ گناہ کا اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔بعض موٹے گناہوں میں مبتلا