خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 293
خطبات مسرور جلد 12 293 20 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مئی 2014 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 16 رمئی 2014 ء بمطابق 16 ہجرت 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں ذکر ہوا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں محو ہو کر قرآن کریم کو سمجھا، قرآنی احکامات کو سمجھا، اللہ تعالیٰ کی توحید کو سمجھا کیونکہ توحید کا حقیقی مضمون آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے کے بغیر سمجھ آہی نہیں سکتا اور نہ ہی قرآن کریم کا علم آپ کے وسیلے کے بغیر حاصل ہوسکتا ہے۔اس لئے لا إله إلا الله کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کو سجھنا بھی ضروری ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں جو لا إلهَ إِلَّا اللہ کا حقیقی اور عملی نمونہ اور مثال ہیں۔بہر حال آج میں اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض ارشادت پیش کروں گا جو توحید کے بارے میں آپ نے بیان فرمائے کہ سچی توحید کیا ہے؟ تو حید کی حقیقت کیا ہے؟ کس طرح عمل کرنے سے انسان حقیقی موحد کہلا سکتا ہے۔سورۃ الناس کی تفسیر میں الیه الناس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔ربّ النّاسِ مَلِكِ النَّاسِ الهِ النَّاسِ کا مضمون بیان ہو رہا ہے۔فرماتے ہیں کہ میں۔۔۔۔بتلانا چاہتا ہوں کہ پہلے اس صورت میں خدا تعالیٰ نے رَبّ الناس فرمایا۔پھر مَلِكِ النَّاس، آخر میں اِله الناس فرما یا جو اصلی مقصود اور مطلوب انسان کا ہے (یعنی الله الناس جو ہے وہی انسان کا اصل مقصد ہے، اسی کی انسان کو طلب ہے اور ہونی چاہئے )۔فرمایا کہ : اللہ کہتے ہیں مقصود، معبود، مطلوب کو۔“ ( یعنی وہ چیز جو حاصل کرنی ہے، جو ہمارا ٹارگٹ ہے، جس کو حاصل کرنا ضروری