خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 290 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 290

خطبات مسرور جلد 12 290 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 مئی 2014ء کے وقت بھی تو حید کا اقرار فرمایا کرتے تھے۔جب بھی کسی انسان کو دنیا کے کسی کام پر بھروسہ یا انحصار ہو گیا تو وہ انسان شرک کے مقام پر جا ٹھہرا اور پھر اس کے موحد ہونے کا دعوی باطل ہو جاتا ہے کیونکہ توحید کی لازمی شرط ہے کہ انسان صرف خدا تعالیٰ کی ذات پر ہی تکیہ رکھے اور بھروسہ کرے۔توحید کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہر کام میں خواہ دینی ہے یا دنیاوی انسان کی نظر صرف ایک خدا کی طرف اٹھے۔پس بے شک اپنی جگہ تمام نیک فقرات عمدہ اور اچھے ماٹو ہیں لیکن کامل موحد بننے کے لئے ضروری ہے کہ انسان کی نظر سے ہر ایک چیز غائب ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے سوا اس کے لئے ہر چیز کا لعدم ہو جائے۔پس حقیقی ماٹولا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہ ہے جس میں تمام نیکیاں جمع ہو جاتی ہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 568 تا 569 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اگست 1936ء) اور توحید کو سمجھنے کے لئے جو دقتیں ہیں ان کا حل بھی ہمیں یہی بتا تا ہے۔وقتیں دور کرنے کے لئے کوئی نمونہ ہونا چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ نمونہ ہے جس کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک فقرے میں یوں بیان فرمایا تھا کہ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآن (مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحه 144 مسند عائشة من الله حديث 25108 مطبوعه عالم الكتب بيروت ($1998 غفلتوں اس ایک فقرے میں توحید کا اعلیٰ معیار بھی بیان ہو گیا۔احکام قرآن کا عملی نمونے کا معیار بھی قائم ہو گیا اور احکامات کی تفصیل بھی سامنے آ گئی۔پس جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھ لیا اس نے خدا تعالی کو سمجھ لیا اور جس نے خدا تعالیٰ کو سمجھ لیا اس نے سب کچھ ہی سمجھ لیا کیونکہ شرک ہی تمام بدیوں ، اور گناہوں کی جڑ ہے اور توحید پر قائم ہونے کے بعد انسان میں اعلیٰ اخلاق، علم ، عرفان، تمدن، سیاست، دوسرے فنون میں کمال، سب ہی کچھ آ جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نور ایک تریاق ہے جس میں تمام امراض کا علاج ہے۔پس ہمارا مائو جو خود بخود خدا تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے وہ لا إلهَ إِلَّا الله ہے۔باقی تفصیلات ہیں جو نصیحت کے طور پر کام آ سکتی ہیں۔اس زمانے میں چونکہ دجال اپنی تمام طاقت کے ساتھ دنیا میں رونما ہوا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ میں دنیا کو دین پر مقدم رکھوں گا۔یہ دجال کا مقصد ہے کہ دنیا کو دین پر مقدم کرنا ہے۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اس کے مقابل پر ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا نعرہ لگائیں۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی شرائط بیعت میں یہ فقرہ شامل فرمایا ہے جس کا مطلب یہی ہے کہ اپنے اوپر ہم دین کی تعلیم لاگور کھیں گے اور ہر مخالف کے اعتراض کے مقابل پر اسلام کا خوبصورت