خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 291 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 291

خطبات مسرور جلد 12 291 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 مئی 2014ء چہرہ دکھا ئیں گے اور یہ سب اس لئے کہ ہم لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کو دنیا میں قائم کرنے والے بنیں۔ہم نے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت اس مقصد کے حصول کے لئے کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہامایہ فرمایا تھا کہ خُذُوا التَّوحِيدَ التَّوْحِيدَ يَا أَبَنَاءَ الْفَارِسِ - (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 267) یعنی کہ اے ابنائے فارس! توحید کو مضبوطی سے پکڑو۔ابنائے فارس سے مراد صرف آپ کا خاندان ہی نہیں ہے بلکہ تمام جماعت روحانی لحاظ سے ابنائے فارس کے ماتحت آتی ہے اور یہ حکم تمام جماعت کے لئے ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ مصیبت کے وقت انسان کسی خاص چیز کو پکڑتا ہے۔فرمایا کہ تم مصائب کے وقت تو حید کو پکڑ لیا کرو کہ اس کے اندر باقی تمام چیزیں ہیں۔پس ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ لا إله إلا الله کے ماٹو کو ہر وقت اپنے سامنے رکھیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 570 تا 571 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اگست 1936ء) آج جبکہ شرک کے ساتھ دہریت بھی بہت تیزی سے پھیل رہی ہے بلکہ دہریت بھی شرک کی ایک قسم ہے یا شرک دہریت کی قسم ہے۔ہم اپنے آپ کو ایک نعرے پر محدود کر کے اور اس پر اکتفا کر کے اپنی دنیا و آخرت سنوار نے والے نہیں بن سکتے۔نہ ہی ہم انسانیت کی خدمت کے زعم میں اپنی نمازوں اور عبادتوں کو چھوڑ سکتے ہیں۔جو ایسا کرتا ہے یا کہتا ہے اس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کوئی تعلق نہیں۔پس ہمیں اپنے حقیقی صمح نظر اور مقصود کو ہمیشہ سامنے رکھنے کی ضرورت ہے تا کہ ہم تمام دینی و دنیاوی انعامات کے حاصل کرنے والے بن سکیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی حقیقت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔نماز جمعہ کے بعد میں ایک جنازہ بھی پڑھاؤں گا ( آ گیا ہے جنازہ ؟ ) جو مکرم صدیق اکبر رحمان صاحب کا ہے۔فیض الرحمان صاحب کے بیٹے تھے۔وا تھم فاریسٹ ( Waltham Forest ) میں رہتے تھے۔7 مئی کو کینسر کی بیماری کی وجہ سے چالیس سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔عہدوں کے لحاظ سے تو جماعتی خدمت کی ان کو زیادہ تو فیق نہیں ملی لیکن کارکن کے لحاظ سے ہمیشہ بڑے سرگرم کا رکن رہے ہیں۔خلافت سے بھی مضبوط تعلق رکھا۔خدا تعالیٰ کی ذات پر اور دعاؤں پر بڑا یقین تھا۔انہوں نے بڑی لمبی بیماری کاٹی ہے۔کینسر کی