خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 287 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 287

خطبات مسرور جلد 12 287 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 مئی 2014ء بات کو بطور ماٹو چننا درست نہیں پس بے شک فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ایک عمدہ مائو ہے اسی طرح میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا بھی عمدہ ہے۔قرآن کریم میں بھی اس طرف اشارہ فرمایا ہے جیسا کہ آیت بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَ أَبقى (الأعلى: 17-18 ) یعنی نادان لوگ دنیا کو دین پر مقدم کرتے ہیں حالانکہ آخرت یعنی دین کی زندگی کا نتیجہ دنیوی زندگی سے اعلیٰ اور دیر پا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 562 تا 563 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اگست 1936ء) اکثر ہم جمعہ پر سورۃ میں یہی آیت پڑھتے ہیں اور اس کے علاوہ بھی بے شمار تعلیم قرآن کریم نے دی ہے۔پس قرآن کریم کی وہ کون سی تعلیم ہے جو مائو نہ بن سکے، جو مح نظر نہ بن سکے۔جس پر نظر ڈالیں اور اس پر غور کریں تو وہ دل کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔اس تمہید کے بعد پھر آپ نے یہ فرمایا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا زمانہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ کا مصداق تھا۔کوئی خرابی ایسی نہ تھی جو اس زمانہ میں پیدا نہ ہو گئی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل ہیں، اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ بھی اس زمانے کا ظل ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ آج بھی تمام قسم کی خرابیاں اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہیں۔اس لئے آج مذہب کی بھی ضرورت ہے۔اخلاق کی تمام اقسام کی بھی ضرورت ہے۔دنیا کی ہر خوبی اور ترقی کی بھی ضرورت ہے۔جہاں لوگوں کے دلوں سے ایمان اٹھ گیا ہے وہاں اخلاق فاضلہ بھی اٹھ گئے ہیں اور حقیقی دنیوی ترقی بھی مٹ گئی ہے کیونکہ اس وقت جسے لوگ ترقی کہتے ہیں وہ نفسانیت کا ایک مظاہرہ ہے۔چاہے وہ ذاتی طور پر ہو یا بین الاقوامی طور پر دیکھ لیں کیونکہ اس وقت جسے لوگ ترقی کہتے ہیں وہ صرف اپنی ذات کے لئے مفاد ہے۔وہ دنیا کی ترقی نہیں کہلا سکتی کیونکہ اس سے دنیا کا ایک حصہ فائدہ اٹھا رہا ہے اور دوسرے کو غلام بنایا جا رہا ہے۔چاہے وہ سیاسی غلامی ہو یا معاشی اور اقتصادی غلامی ہو کسی نہ کسی صورت میں ایک حصہ غلام بن رہا ہے اور ان کے لئے بہر حال یہ ترقی نہیں ہے اور جو ترقی کر رہے ہیں ان کے بھی اپنے مفادات ہیں ، نفسانیت ہے جس کو وہ ترقی کا نام دیتے ہیں۔پس ایسے وقت میں یہ کہنا کہ فلاں آیت کو مطمح نظر بناؤ اور فلاں کو چھوڑ دو یہ غلط ہے بلکہ قرآن کریم کی ہر آیت ہی ہما را صمح نظر اور نصب العین ہے اور ہونا چاہئے۔پس ہمارا مائو تو تمام قرآن کریم ہی ہے لیکن اگر کسی دوسرے ماٹو کی ضرورت ہے تو حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے مقرر کر دیا اور وہ ہے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ -