خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 288
خطبات مسرور جلد 12 288 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 مئی 2014ء اور یہ تمام قرآن کریم کا خلاصہ ہے۔حقیقت بھی یہی ہے کہ تمام تعلیمیں اور تمام اعلیٰ مقاصد توحید سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔اسی طرح بندوں کے آپس کے تعلقات اور بندے کے خدا تعالیٰ سے تعلقات یہ بھی تو حید کے اندر آ جاتے ہیں۔اور توحید ایسی چیز ہے جو بغیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے ظاہر نہیں ہو سکتی۔اس لئے لا إلهَ إِلَّا اللهُ کے ساتھ مُحمد رسُولُ اللہ لگا دیا گیا ہے کہ حقیقی معبود کی تلاش یا خدا تعالیٰ کو اگر دیکھنا ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد سے دیکھو۔گویا آپ ہی وہ عینک ہیں جس سے معبود حقیقی نظر آ سکتا ہے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد لی جائے تو الحمد سے لے کر الناس تک ہر جگہ لا إلهَ إِلَّا اللہ کا مضمون نظر آئے گا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مبارک ہی ہے جن کے آنے سے دنیا میں توحید حقیقی قائم ہوئی ورنہ اس سے پہلے بعض لوگوں نے حضرت عزیر کو بعض نے حضرت عیسی کو خدا کا بیٹا بنایا ہوا تھا۔بعض لوگ ملائکہ کو معبود بنائے بیٹھے تھے۔ایسے وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی ہر قسم کے فسادوں کو دور فرما یا اوراللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی توحید کے قیام کے لئے کھڑا کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہی دنیا میں پھر تو حید قائم ہوئی اور یہی لا إلهَ إِلَّا الله کامالو ہے جو ہم اپنی اذانوں کے ساتھ بھی بلند کرتے ہیں۔جب کسی شخص کو اسلام میں لایا جاتا ہے تو اسے بھی لا إلهَ إِلَّا اللہ کہلوایا جاتا ہے کیونکہ حقیقی اسلام اسی کا نام ہے۔اگر کسی میں دینی کمزوری پیدا ہوتی ہے تو اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ لا الہ الا اللہ اس کے سامنے سے ہٹ گیا ہوتا ہے ورنہ اگر لا إلهَ إِلَّا اللہ ہر وقت سامنے ہو تو انسان دینی کمزوریوں سے محفوظ رہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 563 تا 565 خطبه جمعه فرموده 28 اگست 1936ء) صرف منہ سے لا إله إلا اللہ کہنا مقصد نہیں ہے اکثر جیسے لوگ دہراتے رہتے ہیں۔جھوٹ بھی بولیں گے تو لا اله الا اللہ کہہ کر جھوٹ بول دیں گے۔بلکہ لا إلهَ إِلَّا اللہ اگر کہا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت اور اس کا خوف اور اس کی تمام صفات سامنے آ جاتی ہیں۔پھر جیسا کہ بیان ہو چکا ہے لا إلهَ إِلَّا الله کی حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی واضح ہوتی ہے۔پس جب تک انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں محو نہ ہو جائے تو حید کو کامل نہیں سمجھ سکتا یا تو حید کامل کو نہیں سمجھ سکتا۔اور نہ اللہ تعالیٰ اور اس کے تفصیلی جلوہ یعنی قرآن کریم کو سمجھ سکتا ہے۔جو لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں محو ہو کر تو حید کو نہیں سمجھتے ، باوجود عقل کے شرک میں مبتلا رہتے ہیں۔غیر مسلموں کو تو ایک طرف رکھیں مسلمانوں میں