خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 286
خطبات مسرور جلد 12 286 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 مئی 2014ء بہر حال کوئی بھی اچھا ماٹو کوئی اپنے لئے مقرر کرے وہ اس کے لئے نیکی ہے۔آپ نے یہ وضاحت فرمائی کہ بعض ماٹو ایسے ہوتے ہیں جن کا آپس میں اشتراک ہوتا ہے مثلاً یہ کہ خدا کی اطاعت کرو اور یہ ماٹو کہ نیکیوں میں ترقی کرو یہ آپس میں لازم و ملزوم ہیں کیونکہ خدا کی اطاعت کے بغیر نیکیوں کا حصول ناممکن ہے اور اسی طرح جو نیک نہیں وہ خدا کا مطبع نہیں ہوسکتا۔اسی طرح یہ ماٹو کہ ”میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا اور یہ کہ ” میں نیکیوں میں سبقت لے جانے کی کوشش کروں گا، دونوں آپس میں مشابہ ہیں۔دونوں ایک دوسرے کے اندر آ جاتے ہیں۔پس ساری نیکیاں ہی اچھی ہیں اور ہمیں انہیں اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔لیکن جب ماٹو کے بارے میں سوال اٹھے تو پھر اسی طرف توجہ رکھ کر اسی طرف اپنی توجہ محمد ودکر کے بعض لوگ اپنی نیکیوں کو بالکل ہی محدود کر دیتے ہیں یا اسی کو سب کچھ سمجھنے لگ جاتے ہیں۔جیسے ہمارے نوجوانوں میں یا بعض اور لوگوں میں بھی (لوگ) اپنی دینی حالت کو تو بھول گئے ہیں لیکن صرف دنیا دکھاوے کے لئے محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں“ کا نعرہ بہت زیادہ لگانے لگ گئے ہیں۔ٹھیک ہے اگر اسلام کی تعلیم کا پر چارا گر کرنا ہے، نیک نیت ہے تو یہ نعرہ بہت اچھا ہے لیکن ہمارا صرف یہی مقصد نہیں جیسا کہ میں نے کہا بلکہ ہمارے مقصد بہت وسیع ہیں۔اسی طرح ہمدردی خلق اگر کرنی ہے تو صرف ہمدردی خلق ہی کچھ چیز نہیں ہے اگر اللہ تعالیٰ کی یا ددلوں سے غائب ہو رہی ہے تو پھر (ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 560 تا 562 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اگست 1936ء) اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔حضرت مصلح موعود نے لکھا ہے کہ میں نے جب یہ مضمون پڑھے تو مجھے ایک یہودی کا قصہ یاد آ گیا کہ جب اس نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے باتیں کرتے ہوئے دورانِ گفتگو کہا کہ ہمیں آپ لوگوں سے یعنی مسلمانوں سے بہت زیادہ حسد ہوتی ہے۔حضرت عمرؓ نے پوچھا کہ حسد کی کیا وجہ ہے؟ یہ کس لئے ہوتی ہے؟ تو یہودی کہنے لگا کہ اس بات کا حسد ہے کہ اسلام میں ایک خاص خوبی ہے کہ دنیا کی کوئی بات ایسی نہیں جو اسلام کے احکامات میں موجود نہ ہو۔قرآن کریم میں موجود نہ ہو۔ذاتی نوعیت سے لے کر بین الاقوامی نوعیت تک تمام احکام اور مسائل اور ان کا حل اس میں موجود ہے۔یہ چیز ایسی ہے جو ہم میں حسد پیدا کرتی ہے۔پس اگر ہم میں سے ہر ایک اس بات کو سامنے رکھے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی کسی ایک