خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 282
خطبات مسرور جلد 12 282 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 مئی 2014ء ہمیں صرف اس بات پر خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ ایک نعرہ ہم نے لگا لیا جسے دنیا پسند کرتی ہے اور اس بات پر مختلف جگہوں پر ہماری واہ واہ ہو جاتی ہے۔ہمیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ یہ نعرہ ایک ذریعہ ہے اس وسیع تر مقصد کے حصول کے لئے جس کی خاطر انسان کی پیدائش ہوئی ہے۔پس ہمارے انسانی ہمدردی کے کام محبت کا پر چار اور اظہار اور عمل اور نفرت سے دوری اور نفرت سے صرف دوری ہی نہیں کرنی بلکہ نفرت سے ہمیں نفرت بھی اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لئے ہے، اس کی توحید کے قیام کے لئے ہے۔اگر ہمیں نفرت ہے تو کسی شخص سے نفرت نہیں بلکہ شیطانی عمل سے نفرت ہے اور ہونی چاہئے۔شیطانی عمل کرنے والوں سے بھی ہمیں ہمدردی ہے اور اس ہمدردی کا تقاضا ہے کہ ہم انہیں اس گند سے باہر لائیں تا کہ انہیں خدا تعالیٰ کے عذاب سے بچائیں۔دنیا داروں سے ہماری محبت اور ہمدردی دنیا داری کی خاطر نہیں ہے۔ہم اپنے دلوں سے دنیا داروں کی نفرت ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کچھ حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنے کے لئے ، تو حید کے قیام کے لئے تو حید کو اپنے دلوں میں پہلے سے بڑھ کر بسانے اور راسخ کرنے کے لئے کرتے ہیں۔پس ہمیں چاہئے کہ دنیا کی نظر میں پسندیدہ بننے کے لئے صرف نعرے نہ لگائیں یا اظہار نہ کریں بلکہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے یہ نعرہ لگا ئیں۔اس زمانے میں ہم وہ خوش قسمت جماعت ہیں جنہیں حضرت مسیح و موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے ، ہمدردی خلق اور محبت کے اصول اپنانے کے لئے چنا ہے اور آپ نے ہمیں وہ اصول سکھائے اور تعلیم دی۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ دین کے دو ہی کامل حصے ہیں۔ایک خدا سے محبت کرنا اور ایک بنی نوع سے اس قدر محبت کرنا کہ ان کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھ لینا اور ان کے لئے دعا کرنا پھر آپ فرماتے ہیں: نیم دعوت، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 464) ،، یہ طریق اچھا نہیں کہ صرف مخالفت مذہب کی وجہ سے کسی کو دکھ دیں۔“ ایک مجلس میں آپ نے فرمایا کہ لیکچرلدھیانہ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 281) میرا تو یہ مذہب ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی حد سے زیادہ سختی نہ ہو۔۔۔۔میں سچ کہتا ہوں کہ تم کسی کو اپنا ذاتی دشمن نہ سمجھو اور اس کینه توزی کی عادت کو بالکل ترک کر دو۔“ ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 104 )