خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 277 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 277

خطبات مسرور جلد 12 277 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مئی 2014ء گھونٹ میں نشہ ہوتا ہے اسی طرح عمل صالح کے برکات اُس کی آخری خیر میں مخفی ہوتے ہیں۔جو شخص آخر تک پہنچتا ہے اور عمل صالح کو اپنے کمال تک پہنچاتا ہے وہ ان برکات سے متمتع ہو جاتا ہے لیکن جو شخص درمیان سے ہر عمل صالح کو چھوڑ دیتا ہے اور اس کو اپنے کمال مطلوب تک نہیں پہنچا تا ، وہ ان برکات سے محروم رہ جاتا ہے۔“ ( مکتوبات احمد جلد 1 صفحہ 600 مکتوب بنام میر عباس علی صاحب مکتوب نمبر 45) فرمایا : ” میں تو یہ جانتا ہوں کہ مومن پاک کیا جاتا ہے اور اس میں فرشتوں کا رنگ ہو جاتا ہے۔جیسے جیسے اللہ تعالیٰ کا قرب بڑھتا جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا کلام سنتا اور اس سے تسلی پاتا ہے۔اب تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے دل میں سوچ لے کہ کیا یہ مقام اسے حاصل ہے؟ میں سچ کہتا ہوں کہ تم صرف پوست اور چھلکے پر قانع ہو گئے ہو حالانکہ یہ کچھ چیز نہیں ہے۔خدا تعالیٰ مغز چاہتا ہے۔پس جیسے میرا یہ کام ہے کہ ان حملوں کو روکا جاوے جو بیرونی طور پر اسلام پر ہوتے ہیں ویسے ہی مسلمانوں میں اسلام کی حقیقت اور روح پیدا کی جاوے۔“ ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 261) آپ نے فرمایا: ” انسان کی عزت اسی میں ہے اور یہی سب سے بڑی دولت اور نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔جب وہ خدا کا مقرب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہزاروں برکات اس پر نازل کرتا ہے۔زمین سے بھی اور آسمان سے بھی اس پر برکات اترتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیخ کنی کے لئے قریش نے کس قدر زور لگایا۔وہ ایک قوم تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تن تنہا۔مگر دیکھو! کون کامیاب ہوا۔اور کون نامرادر ہے۔نصرت اور تائید خدا تعالیٰ کے مقرب کا بہت بڑا نشان ہے۔“ ( ملفوظات جلد 9 صفحہ 128) پھر ہمیں قرب حاصل کرنے کے معیار کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ ” خدا کی لعنت سے بہت خائف رہو کہ وہ قدوس اور غیور ہے۔بدکار خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔متکبر اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ظالم اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔خائن اس کا قرب حاصل نہیں کرسکتا۔اور ہر ایک جو اس کے نام کیلئے غیرت مند نہیں اس کا قرب حاصل نہیں کرسکتا۔وہ جو دنیا پر کتوں یا چیونٹیوں یا گڑوں کی طرح گرتے ہیں اور دنیا سے آرام یافتہ ہیں وہ اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتے۔ہر ایک نا پاک آنکھ اس سے دور ہے۔ہر ایک نا پاک دل اس سے بے خبر ہے۔وہ جو اس کے