خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 263 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 263

خطبات مسرور جلد 12 263 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اپریل 2014ء کار میں بیٹھتے ہوئے نائب امیر ناصر صاحب ہماری کار ڈرائیو کر رہے تھے ان کو میں نے کہا کہ محمود صاحب تو مجھے بہت زیادہ کمزور اور بوڑھے لگے ہیں۔اس وقت مجھے ان کی تکلیف کا اندازہ نہیں تھا۔یہ تو تفصیل بعد میں مجھے پتہ گی۔وہاں کے ڈاکٹر سے بات کی تو پتا چلا کہ کس طرح یہ شخص اتنی شدید تکلیف میں اپنے آپ کو مشقت میں ڈال کر چل پھر رہا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ تمام امور کی جو دورے سے متعلقہ تھے نگرانی بھی کر رہے تھے۔ایک دن اسی تکلیف کے ساتھ دورے کے دوران ان کا بلڈ پریشر بھی بہت بڑھ گیا۔خیال یہ ہوا کہ سٹروک نہ ہو یا دل کا حملہ نہ ہو۔حالت انتہائی خراب تھی۔ہسپتال لے کر گئے۔چند گھنٹے ہسپتال میں رہے پھر بہر حال ہسپتال والوں نے گھر آنے کی اجازت دے دی۔اور اس مرد مجاہد نے گھر آتے ہی پھر دوبارہ کام شروع کر دیا۔ایک شہر میں میرے ساتھ دورے پر نہیں جاسکے تو اس کا بڑے غم سے ذکر کرتے تھے۔دوسری جگہ تکلیف کے باوجود بھی گئے۔باوجود اس کے کہ میں نے کہا نہ جائیں لیکن یہ ساتھ گئے اور تمام پروگرام جو بڑے hectic اور سخت پروگرام تھے اس میں یہ ساتھ ساتھ رہے۔ہر وقت موجود رہے نگرانی کرتے رہے۔اپنی فکر بھول کر میری فکر تھی کہ کسی قسم کی تکلیف نہ ہو اور تمام پروگرام باحسن ہو جائیں۔اور صرف یہی نہیں کہ میری فکر تھی بلکہ جو میرے قافلے کے افراد تھے ان کی بھی فکر تھی۔ان کا بھی خیال رکھا۔بار بار اس بات کا اظہار کرتے تھے کہ تم لوگوں کا صحیح خیال نہیں رکھ سکا۔اور یہ فکر صرف اس وجہ سے تھی کہ قافلے کے افراد کی وجہ سے خلیفہ وقت کو تکلیف نہ ہو بلکہ مجھے تو دوران دورہ ان کی فکر رہی کہ ان کی طبیعت خراب نہ ہو جائے۔بہر حال دورے کے دوران ہی ان کی طبیعت بہتر ہونا شروع ہوئی اور پھر آہستہ آہستہ کافی بہتر ہوگئی۔گزشتہ دنوں ان کا جلسہ ہوا ، شوری ہوئی اس میں انہوں نے بھر پور حصہ لیا۔میں نے خدام الاحمدیہ میں بھی ان کے ماتحت کام کیا ہے۔بڑے کھلے ہاتھ سے اپنے ماتحتوں سے کام لیا کرتے تھے۔کام کرنے کا ان کو موقع دیتے تھے اور پھر قدر دانی بھی کیا کرتے تھے۔اور خلافت کے بھی ایسے سلطان نصیر کہ جس کی مثالیں کم کم ملتی ہیں اس کا تو میں نے شروع میں ہی ذکر کر دیا ہے۔ان کے جانے سے گو آسٹریلیا جماعت میں ایک خلاء پیدا ہوا ہے لیکن البی جماعتوں کو اللہ تعالیٰ خود سنبھالتا ہے اور ان خلاؤں کو خود پورا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فضل فرمائے اور ان جیسے سلطان نصیر ہمیشہ اللہ تعالیٰ عطا فرما تا رہے جو خلافت کے باوفا بھی ہوں، جاں نثار بھی ہوں اور اپنے عہد کو پورا کرنے والے بھی ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کے اہلیہ اور بچوں کا بھی حافظ و ناصر ہو اور انہیں بھی توفیق دے کہ اپنے باپ کی طرح ایمان وایقان میں