خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 258
خطبات مسرور جلد 12 258 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اپریل 2014ء بڑے ( صحت مند ) تو نہیں ، مطلب یہ کہ بیماری کے لحاظ سے ان کی صحت دوبارہ بحال ہو رہی تھی اور کافی حد تک بحال ہو چکی تھی کہ پھر اچانک یہ سٹروک (stroke ) ہوا۔پھر وکٹوریہ جماعت کے صدر جاوید صاحب ہیں وہ اپنے ایک تفصیلی خط میں لکھتے ہیں کہ امیر صاحب کی معاملہ نہی ، چھوٹی چھوٹی بات میں رہنمائی، تدبر، بصیرت اور دور اندیشی کے واقعات ہر شخص کی زبان پر عام ہیں۔امیر صاحب کے پاس پرانی سی گاڑی تھی مجلس عاملہ کے بار بار اصرار اور کہتے ہیں میری ذاتی درخواست پر بھی اچھی گاڑی نہیں لی اور ہمیشہ دوسرے مربیان کو اچھی گاڑیاں لے کر دیں۔اپنی کوئی فکر نہیں تھی۔اسی طرح ان کی بیٹی نے لکھا ہے کہ کپڑوں وغیرہ کو لے کر ہم آتے تھے تو ان کو زیادہ نہیں ہوتا تھا۔یہی تھا کہ جو آرام دہ کپڑا ہے وہ پہنوں۔زیادہ fuss کرنے کی ضرورت نہیں۔جماعتی اخراجات پر بڑی احتیاط سے کام لیتے تھے۔یادداشت بہت اچھی تھی۔احباب جماعت کو ان کے ناموں سے یاد کرتے اور ان کی خوبیوں کو استعمال میں لانے کا خدا داد ملکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہوا تھا۔مجلس عاملہ میں اور شوریٰ کے اجلاس میں خلیفہ وقت کے حوالے دے کر بات سمجھایا کرتے تھے۔ایک صاحب کہتے ہیں کہ ایک صاحب جنہوں نے یہاں جو کرکٹ ٹورنا منٹ ہوتا ہے اس میں آنا تھا لیکن ایک طوفان کی وجہ سے فلائٹ لیٹ ہو گئی یا کینسل ہوگئی اور وہ ٹورنامنٹ میں شامل نہیں ہو سکے تو امیر صاحب نے انہیں سمجھایا کہ پھر بھی ضرور جائیں۔اگر ٹورنا منٹ میں شامل نہیں ہو سکتے تو کوئی بات نہیں۔اصل مقصد تو خلیفہ وقت سے ملاقات ہے اگر وہ ہو جائے تو تم سمجھو کہ تمہارا ٹورنامنٹ کا مقصد پورا ہو گیا۔اب دورے پر جب میں گیا ہوں تو ان دنوں میں ایک بیماری کی وجہ سے کافی شدید بیمار تھے اور ساتھ میلبرن نہیں جا سکے لیکن فون پر ہر تھوڑے تھوڑے وقفے سے فون کر کے تمام انتظامات کا جائزہ لیتے رہے۔کہتے ہیں کہ امیر صاحب اپنے خطابات میں خدام، انصار اور لجنات کو حقوق کی ادائیگی کی تلقین کیا کرتے تھے جس کا خوشگوار اثر ان کی زندگیوں میں دیکھنے میں آتا رہا۔غیر ممالک سے آئے طلباء کا خاص خیال کرتے۔شہداء کی فیملیز کے متعلق ہر دوسرے کام پر ترجیح دیا کرتے تھے۔فیملیز کے معاملات کو ہر دوسرے کام پر ترجیح دیا کرتے تھے۔تعزیری کارروائی کی کبھی شکایت کرنی پڑتی اور یہاں سے تعزیر ہوتی تو فرمایا کرتے تھے کہ اس سے میرا دل کٹ جاتا ہے اور معافی کے معاملے میں بہت جلدی کرتے تھے۔جماعت احمد یہ آسٹریلیا کے لئے امیر صاحب کی شخصیت ایک ایسی اینٹ کی حیثیت رکھتی ہے جس نے