خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 254 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 254

خطبات مسرور جلد 12 254 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اپریل 2014ء خدام الاحمدیہ میں آپ کی نمایاں خدمات یہ ہیں کہ آپ کے دور میں خدام الاحمدیہ نے کئی شعبوں میں نمایاں طور پر آگے قدم بڑھایا۔آپ نے اسیروں کی بھلائی اور بہبودی کے لئے اسیران ٹرسٹ قائم کیا جس کے تحت ان کی ضروریات پوری کرنے اور ان کے دکھوں کا مداوا کرنے کی کوشش کی گئی۔اسی طرح صد سالہ جشن تشکر کے موقع پر مجلس خدام الاحمدیہ کی طرف سے ایک ایمبولینس مخلوق خدا کی خدمت کے لئے چلائی گئی۔بیوت الحمد سوسائٹی کے آغاز پر مجلس خدام الاحمدیہ نے بھاری عطیہ پیش کیا جس کے روح رواں مکرم محمود احمد صاحب ہی تھے۔پھر خدام احمدیہ کے کارکنان کے لئے کوارٹرز تعمیر کرنے کی خاطر زمین خریدی جس میں آپ نے ذاتی دلچسپی کا اظہار کیا۔پھر تراجم قرآن فنڈ میں مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے گراں قدر عطیہ پیش کرنے کی سعادت پائی۔آپ نے پاکستان سے باہر خدام الاحمدیہ کی تنظیمی ترقی کے لئے کئی ممالک کا دورہ فرمایا اور ان میں سب سے تفصیلی دورہ 11 جون سے 11 /اکتوبر 1987ء کاسہ براعظمی دورہ تھا جس میں آپ نے یورپ امریکہ اور مغربی افریقہ کے گیارہ ممالک ہالینڈ بیلجیم ، جرمنی، برطانیہ، امریکہ، گیمبیا، سینیگال، سیرالیون، لائبیریا، آئیوری کوسٹ اور گھانا وغیرہ مختلف جگہوں پر سفر کیا۔کسی صدر مجلس خدام الاحمدیہ کا ان ممالک کا یہ پہلا دورہ تھا۔1989ء میں آپ نے انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگا پور کا دورہ کیا۔آپ ہی کے دور میں خدام الاحمدیہ کے گیسٹ ہاؤس کی بالائی منزل تعمیر ہوئی۔پھر خدام الاحمدیہ کا حمود بال جو ایوا محمود کہلاتا ہے اس کو ایک دفعہ آگ لگ گئی تھی تو بغیر کسی مالی تحر یک کے پھر اس کی مرمت اور ساری رینوویشن وغیرہ کروائی۔آپ کے دور میں خدام الاحمدیہ کو حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے انتخاب کے موقع پر، خلافت رابعہ کے انتخاب کے موقع پر خدمات کی توفیق ملی۔پھر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی پاکستان سے ہجرت کے وقت کے نازک حالات میں بھی خدام الاحمدیہ نے خدمت کی توفیق پائی۔ڈیوٹیاں دیں، ساتھ بھی گئے۔آپ کے دور کو خدا تعالیٰ نے کئی تاریخی اعزازات بھی عطا فرمائے۔ہجری کیلنڈر کے لحاظ سے چودھویں اور پندرھویں دونوں صدیوں میں اور اسی طرح جماعت کی پہلی اور دوسری دونوں صدیوں میں خدمت کی توفیق پائی۔ان کے عہد میں ہی خدام الاحمد یہ اپنے پچاس سال پورے کر کے اکاونویں (51) سال میں داخل ہوئی۔سلطان مبشر صاحب جو تاریخ خدام الاحمدیہ لکھ رہے ہیں۔لکھتے ہیں کہ محمود صاحب کہا کرتے تھے کہ جب مجھے صدر خدام الاحمدیہ بنے دو تین روز ہوئے تو میں بہت گھبرایا اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے قدموں میں بیٹھ کر بہت رویا اور اپنے مخصوص لہجے میں میں نے