خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 253 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 253

خطبات مسرور جلد 12 253 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اپریل 2014ء میں اجتماعات میں مجالس کی نمائندگی کے گراف کا ذکر کرنے اور اس میں ایک مرحلے پر درمیان میں تنزل کے علاوہ تدریجی ترقی کی طرف اشارہ کرنے کے بعد فرمایا کہ ” میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کامیابی ووٹ لینے والوں کو نہیں خلیفہ وقت کی دعائیں حاصل کرنے کے نتیجہ میں ملتی ہے۔پچھلی دفعہ پانچویں نمبر پر ووٹ لینے والے صاحب کو صدر بنایا گیا تھا۔ان کے پہلے سال 771 مجالس حاضر تھیں اور دوسرے سال یعنی اس سال 818 مجالس (اس وقت کی جور پورٹ ہے اس میں ) حاضر ہیں۔“ مشعل راه جلد دوم صفحه 571 تا 573) محمود بنگالی صاحب جو تھے وہ اپنے دور صدارت میں مجلس خدام الاحد یہ مرکز یہ کے صدر تھے۔اس زمانے میں تمام دنیا میں مرکز کے تحت ایک صدر ہوتا تھا۔باقی دنیا کے صدران نہیں تھے بلکہ قائدین کہلاتے تھے اور ان کے دور میں یہ اختتام ہوا۔یہ آخری صدر تھے جو خدام الاحمدیہ کے بین الاقوامی صدر تھے۔تو بہر حال جب یہ دور ختم ہوا تو حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کی خدمت میں انہوں نے ایک بڑا عاجزانہ خط بھیجا۔اس پر حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے جواب دیا کہ آپ نے خط میں خوامخواہ شرمندگی کا اظہار کیا ہے۔شرمندگی کی کیا بات ہے۔آپ نے تو ماشاء اللہ بہت اچھا دور نبھایا ہے۔بڑے مشکل حالات میں بڑی عمدگی ، حکمت اور بہادری کے ساتھ کام کیا ہے۔اللہ مبارک کرے۔اسی لئے تو آپ کو انصار اللہ میں جانے کے باوجود خدمت کا موقع ملا۔(ان کو ایک سال کی extention دی گئی تھی۔) اگر آپ نا اہل ہوتے تو ہرگز ایسانہ کیا جاتا۔اللہ تعالیٰ آئندہ بھی آپ کو ہمیشہ سلسلے کا بے لوث خادم بنائے رکھے اور بہترین خدمات کی توفیق پاتے رہیں ( مکتوب 15 نومبر 1989ء)۔آپ نے اسیران کی بھلائی اور بہبود کے حوالے سے بہت کام کیا اور اس حوالے سے رپورٹس باقاعدہ جاتی رہیں۔ان رپورٹس پر حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کا یہ ارشاد بھی تھا کہ آپ کی رپورٹ بابت بہبودی اسیران موصول ہوئی۔آپ ماشاء اللہ بڑی حکمت اور محنت سے کام کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کے نیک نتائج پیدا فرمائے اور واقعی انہوں نے اس زمانے میں اسیران کی بڑی خدمت کی۔اور پھر ایک جگہ ایک رپورٹ پر لکھا: ” خدمت اسیران میں آپ کی مساعی سے بڑی خوشی ہوئی ہے۔84ء کا جو قانون تھا یہ اس کا ابتدائی دور تھا اور سینکڑوں کی تعداد میں اسیران کلمہ کی وجہ سے جیل میں جا رہے تھے۔اس زمانے میں خدام الاحمدیہ اور صدر خدام الاحمدیہ نے کافی کام کیا ہے۔فرماتے ہیں کہ ” خدمت اسیران میں آپ کی مساعی سے بڑی خوشی ہوئی ہے۔بہت عمدگی سے کام کر رہے ہیں۔بالکل اسی طرح سے جس طرح کہ میرا منشا تھا۔( مکتوب 12 مئی 1988ء)