خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 252
خطبات مسرور جلد 12 252 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اپریل 2014ء انٹرنیشنل صدر خدام الاحمدیہ کا انتخاب ہوا تو آپ ووٹوں کی گنتی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ آپ سے بہت شفقت فرماتے تھے۔حضور نے آپ کو بلا کر فرمایا کہ آج شام تک کثرت سے استغفار کرو۔کہتے ہیں کہ میں بہت ڈرا کہ پتا نہیں مجھ سے کیا غلطی سرزد ہو گئی ہے۔جب حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچویں نمبر پر ہونے کے باوجود صدر مقرر فرما دیا تو مجھے سمجھ آئی کہ حضور اس طریق سے مجھے عاجزی کی طرف متوجہ فرما رہے تھے۔یہ ان سب عہدے داروں کے لئے بھی سبق ہے جو جب منتخب ہوتے ہیں تو (انہیں) استغفار اور درود بہت زیادہ پڑھنے کی ضرورت ہے تا کہ عاجزی ہمیشہ قائم رہے اور خدمت کی تو فیق اللہ تعالیٰ صحیح رنگ میں عطا فرما تار ہے۔محمود مجیب صاحب انجینئر جو ہیں وہ بھی ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ محمود بنگالی صاحب بڑے ہی فدائی اور خلافت کے شیدائی احمدی تھے۔خلیفہ اسیح الثالث نے غالباً ( ان کو سن تو یاد نہیں۔غالباً لکھا ہوا ہے اور شاید ٹھیک ہی لکھا ہوا ہے کہ ) 80 ء یا 81ء میں سارے صدران شمار کروائے جو 1960 ء سے اس وقت تک پہلے گزر چکے تھے اور اس کے بعد پھر محمود بنگالی صاحب کی تعریف فرمائی کہ اطاعت میں اور دعائیں لینے میں یہ سب سے آگے نکل گئے ہیں۔اور پھر وہاں خلیفتہ اسیح الثالث نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میں نے ان کو پانچویں نمبر سے اٹھا کے جو صدر بنایا تھا تو جماعت کو ایک سبق دینا چاہتا تھا کہ خلافت کا جو انتخاب ہے وہی بہتر ہوتا ہے۔خدام الاحمدیہ کے دور میں انہوں نے ان سے کافی کتابیں لکھوائیں۔1981ء کا یہ واقعہ ہے۔خدام الاحمدیہ کا اجتماع تھا۔اس میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے جو اپنے الفاظ ہیں جس میں آپ نے ان کو ، ان کی خدمات کو سراہا۔فرمایا کہ ” برکت اسی کو ملے جو مخلصانہ نیت سے خلافت کی اتباع کرے کیونکہ ساری برکتیں اسی نظام سے وابستہ ہیں۔اس کے سوا کوئی بات اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا مرتبہ حاصل نہیں کر سکتی“۔پھر فرمایا کہ ” پچھلے سال خدام الاحمدیہ کے صدر کا جو انتخاب ہوا اس میں ووٹوں کے لحاظ سے محمود احمد صاحب۔۔۔۔۔پانچویں نمبر پر تھے اور میں یہ سبق جماعت کو دینا چاہتا تھا کہ جن چار کو ووٹ زیادہ ملے ان کے کام میں برکت ان کے ووٹوں کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ جو مخلصانہ نیت سے خلافت کی اتباع کرے گا وہی برکت حاصل کرے گا۔چنانچہ پانچویں نمبر پر جومحمود احمد بنگالی صاحب تھے ان کو میں نے صدر منتخب کر دیا۔بڑے مخلص آدمی ہیں۔اللہ ان کے اخلاص میں ترقی دے۔بڑا کام کیا۔دعائیں لیں۔‘“ اور پھر حضور نے 1960ء سے لے کر اس وقت تک کے جو مختلف صدر ان مجالس خدام الاحمدیہ تھے۔ان کے زمانوں