خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 251
خطبات مسرور جلد 12 251 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اپریل 2014ء فارغ ہو۔یہ ابتدائی دنوں کی بات تھی مگر بہت جلد محمود صاحب پھر پورے دل و جان سے اپنی تعلیم میں مشغول ہو گئے اور ربوہ کے ماحول میں ربوہ کے پرانے رہنے والے جانتے ہیں کہ بڑے گھل مل گئے۔میر داؤ د احمد صاحب گرمیوں کی تعطیلات میں ان کو مجیب الرحمن صاحب کے پاس راولپنڈی بھیج دیا کرتے تھے۔مجیب صاحب لکھتے ہیں اور بڑا صحیح لکھتے ہیں کہ عزیزم مرحوم کی طبیعت میں سادگی اور خلوص اس قدر تھا اور اتنے خوش اخلاق اور ملنسار تھے کہ غیر از جماعت ہمسائے کے بچے اور خواتین بھی ان سے مانوس ہو جایا کرتے تھے اور ہمیشہ ان کو یاد کرتے تھے۔محمود احمد صاحب کا اپنے بھائیوں سے بہت شفقت کا تعلق تھا۔اپنے غریب رشتہ داروں کی خاموشی سے مدد کرتے رہتے تھے۔بنگلہ دیش کی جماعت میں کچھ رقم ان کی امانت میں رکھی رہتی تھی جس سے وہ اپنی والدہ کی مستقل خدمت کرتے رہتے تھے۔سب ان کے عزیز رشتہ دار بھی یہی کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ بڑا پیار کا تعلق تھا۔جب یہ صدر بنے ، (یہ بھی انہوں نے اپنے داماد کو خود نوٹ کروایا، تو کہتے ہیں 1979ء میں خدام الاحمدیہ کی شوریٰ میں صدر کا انتخاب ہوا۔ووٹ کے لحاظ سے وہ پانچویں پوزیشن میں تھے۔انتخاب کے بعد نماز فجر کے وقت حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بلا کے فرمایا کہ کثرت سے استغفار کرو اور درود پڑھو۔اور اگلے روز یا اس دن شام کو حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے ان کی بطور صدر منظوری عطا فرمائی۔پانچویں نمبر پر تھے ووٹوں کے لحاظ سے۔ان کے جامعہ کے ساتھی انعام الحق کوثر صاحب جو آجکل امریکہ میں مبلغ سلسلہ ہیں وہ لکھتے ہیں کہ جامعہ کے ناصر ہوسٹل میں آپ سے دوستی ہوئی۔آپ ہوٹل کے زعیم تھے اور انعام صاحب معتمد تھے۔کہتے ہیں کہ میں ( کمیٹی ) کے ممبر اور پھر صدر بنے۔جامعہ میں نائب الرئيس الجامعہ منتخب ہوئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے انہیں صدر منتخب کیا اور اس کا اعلان ہوا تو انعام صاحب کہتے ہیں کہ میں محمود صاحب کے پاس ہی کھڑا تھا۔میں نے آگے بڑھ کر ان کو گلے ملنا چاہا۔کہنے لگے پرے ہٹو۔اور اپنی مخصوص زبان جس میں بنگالی اردو بھی ملی ہوئی تھی، پوچھنے لگے کیا میرا نام کا اعلان ہوا ہے تو میں نے کہا ہاں۔انہیں یقین نہیں آرہا تھا۔خوشی کی بجائے صدمے کی حالت تھی۔مگر پھر جلد سنبھل گئے اور کہتے ہیں پھر میں نے ان کو گلے لگایا۔خالد سیف اللہ صاحب جو ان کے بعد اب اس وقت قائمقام امیر جماعت آسٹریلیا ہیں وہ کہتے ہیں کہ ایک موقع پر محمود بنگالی صاحب نے یہی صدر بننے کا قصہ خود انہیں بتایا کہ 1979ء میں جب