خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 250 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 250

خطبات مسرور جلد 12 250 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اپریل 2014ء شادی شدہ ہیں اور جماعتی خدمات میں پیش پیش ہیں۔محمود صاحب نے اپنی ابتدائی زندگی کی بعض باتیں اپنے داماد کونوٹ کروائی تھیں کہ کیا واقعات تھے۔کہتے ہیں کہ تعلیم کے دوران ایک مرتبہ جامعہ میں ہی فٹ بال کھیلتے ہوئے ان کے گھٹنے میں سخت چوٹیں آئیں۔سخت بیمار ہو گئے اور مشرقی بنگال واپس چلے گئے۔ربوہ کا موسم بھی اس زمانے میں سخت تھا۔وہاں سہولیات بھی نہیں تھیں۔پانی نمکین تھا۔میٹھے پانی کی دستیابی نہیں تھی۔اکثر ان کے پیٹ میں تکلیف رہتی تھی۔والدین بھی دور تھے۔چھوٹے تھے۔چوٹیں بھی لگی ہوئی تھیں۔آخر والدین کی یاد بھی آئی تو بنگلہ دیش واپس چلے گئے۔اس زمانے میں مشرقی پاکستان ہوتا تھا۔ربوہ واپس آنے کی ان کی کوئی کوشش نہیں تھی۔کوئی خواہش نہیں تھی کہ دوبارہ جائیں لیکن کہتے ہیں کہ سید میر داؤد احمد صاحب جو اس زمانے میں پرنسپل تھے انہوں نے بار بار خط لکھے اور کوشش کی کہ دوبارہ جامعہ میں آجائیں تو اس وجہ سے پھر ان کی واپسی ہوئی۔کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب کی دعاؤں کا بھی میری زندگی پر بڑا گہرا اثر تھا۔ربوہ میں جب تھے تو انہوں نے والد صاحب کو لکھا کہ ربوہ کا موسم سخت ہے۔پانی نہیں ہے۔گرمی ہے۔کھانے پینے کی بڑی تکلیف ہے وغیرہ وغیرہ۔اس کے جواب میں ان کے والد مکرم محب اللہ صاحب نے لکھا کہ مکہ میں بھی بڑے تکلیف دہ حالات تھے اور سورۃ ابراہیم کی آیت رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْع (ابراهیم : 38) کے حوالے سے پھر انہوں نے نصیحت کی اور لکھا کہ اللہ کے خلیفہ نے جو شہر آباد کیا ہے اگر وہاں نہیں رہ سکتے تو والد کے ساتھ تعلق بے معنی ہے۔کہتے ہیں اس کے بعد پھر میری زندگی میں بڑی گہری تبدیلی آئی۔راولپنڈی سے مکرم مجیب الرحمن صاحب ایڈووکیٹ جو ہیں وہ کہتے ہیں کہ خاموش اور سلیقہ مند کام کرنے والے خادم سلسلہ تھے۔ساری عمر نہایت اخلاص اور وفا کے ساتھ اپنے فرائض بجالاتے رہے۔عین خدمت کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔ان کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے صد ر خدام الاحمدیہ بنایا تھا اور اس کے بعد سے پھر ان کی انتظامی خوبیاں بھی سامنے آنے لگیں۔مجیب الرحمن صاحب کہتے ہیں کہ ان کے والد محترم مولانا محب اللہ صاحب کی تعیناتی بنگال میں بطور مبلغ ہوئی۔انہوں نے اپنی پہلی اولا د کو وقف کر دیا اور محمود احمد ابھی چھوٹے ہی تھے کہ انہیں ربوہ میں بھجوادیا۔اجنبی ماحول میں شروع شروع میں کافی اداس ہو جاتے تھے۔مجیب الرحمن صاحب محمود صاحب کے ماموں ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ ان کے والد کو اتنی تڑپ تھی کہ مجھے اکثر لکھتے تھے کہ محمود کو اداس نہ ہونے دینا تا کہ یہ پڑھ لکھ جائے۔جامعہ سے