خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 249 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 249

خطبات مسرور جلد 12 ذکر کرتا ہوں۔249 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اپریل 2014ء 22 اپریل کو مشن ہاؤس سڈنی میں نماز عصر کے لئے مسجد کی طرف نکلے لیکن تھوڑا سا چل کے واپس گھر لوٹ آئے کہ طبیعت خراب ہو رہی ہے۔اور گھر پہنچتے ہی شدید برین ہیمبرج کا حملہ ہوا۔شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض تو پہلے ہی تھے۔ہسپتال لے گئے۔وہاں وینٹی لیٹر پر ان کو رکھا گیا۔ڈاکٹروں کا تو یہی خیال تھا کہ دماغ کے جس حصہ میں برین ہیمبرج ہے وہاں سے زندگی کی واپسی ممکن نہیں ہے لیکن بہر حال میں نے ان کو کہا کہ 24 گھنٹے کوشش کر لیں اس سے زیادہ نہیں۔24 گھنٹے کے بعد جب وہ مشین استاری گئی تو دو منٹ بعد ہی آپ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔ان کا تعارف کچھ اس طرح ہے۔محمود صاحب 18 نومبر 1948ء کو بنگلہ دیش کے ایک گاؤں چار دکھیہ ضلع چاند پور میں پیدا ہوئے تھے۔ان کے والد مولانا ابوالخیر محد محب اللہ اور والدہ کا نام زیب النساء تھا۔ان کے والد ابوالخیرمحمد محب اللہ صاحب نے 1943ء میں احمدیت قبول کی تھی۔ابتدائی نام ابو الخیر محمد تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے محب اللہ کے نام کا اضافہ فرمایا تھا۔ان کے والد اپنے علاقے کے سب سے پہلے احمدی تھے اور بڑے پائے کے عالم تھے تبلیغ کا بھی ان کو بڑا شوق تھا۔اور انہوں نے تبلیغ کے ذریعہ سے اپنے والد خواجہ عبدالمنان صاحب یعنی محمود صاحب کے دادا کو احمدیت کے نور سے فیضیاب کیا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کی بات ہے کہ اس زمانے میں یہ سہارن پور یو۔پی میں پڑھنے کے لئے گئے ہوئے تھے تو وہاں ان کو احمدیت کے بارے میں علم ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب دہلی تشریف لے گئے تو ان کے دادا کو بھی حضور علیہ السلام سے ملنے کا شوق پیدا ہوالیکن جہاں وہ زیر تعلیم تھے ان لوگوں نے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملنے کی اجازت نہیں دی۔بعد میں جب یہ احمدی ہوئے تو کہا کرتے تھے کہ لوگوں نے تو ہمیں اس نعمت سے محروم رکھنے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت ہمیں عطا فرما دی۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کی تحریک پر مکرم محمود احمد شاہد صاحب کے والد نے آپ کو وقف اولاد کے تحت 1954ء میں وقف کیا۔محمود شاہد صاحب مرحوم نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں ہی حاصل کی اور پھر 1962 ء میں، ابھی بچے ہی تھے کہ جامعہ احمد یہ ربوہ میں داخل ہوئے اور 1974ء میں انہوں نے شاہد کی ڈگری حاصل کی۔آپ کی شادی 1977 ء میں مولوی محمد صاحب مرحوم امیر جماعت بنگلہ دیش کی بیٹی ہاجرہ صاحبہ سے ہوئی۔ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل -