خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 248
خطبات مسرور جلد 12 248 17 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اپریل 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 25 اپریل 2014 ء بمطابق 25 شہادت 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس وقت میں ذکر کرنا چاہتا ہوں ایک انتہائی پیاری شخصیت کا جو اپنے انتہائی باوفا ہونے میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔فدائی خادم سلسلہ تھے۔دو دن پہلے ان کا انتقال ہوا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ہر انسان نے ایک دن اس دنیا کو چھوڑنا ہے لیکن کتنے خوش قسمت ہیں وہ انسان جو اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔جب عہد کرتے ہیں تو عہدوں کو نبھانے کی حتی المقدور کوشش کرتے ہیں۔خدمت دین کے ساتھ خدمت انسانیت کی بھی ہمہ وقت کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ان لوگوں میں شامل ہوتے ہیں جن کی ایک دنیا تعریف کرتی ہے اور اس وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے مطابق جنت ایسے لوگوں پر واجب ہو جاتی ہے۔یہ خادم سلسلہ خلفائے وقت کے سلطان نصیر اور خلافت کے لئے انتہائی غیرت رکھنے والے ہمارے پیارے بھائی مکرم محموداحمد شاہد صاحب تھے جن کومحمود بنگالی کے نام سے پاکستان میں بھی اکثر لوگ جانتے ہیں۔اس وقت یہ آسٹریلیا جماعت کے امیر تھے اور وہیں بدھ کے روز 23 اپریل کو ان کی وفات ہوئی ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ مجھے ان کی وفات کے بعد ایک عزیز کا جو پہلا خط یا پیغام آیا انہوں نے یہ لکھا کہ خلافت کے فدائی ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی بنائے۔ان کو میں نے یہی جواب دیا تھا کہ وہ نبض کی طرح چلتے تھے۔کبھی ان کے دل میں یہ انقباض پیدا نہیں ہوا کہ یہ حکم کیوں آیا اور اس طرح کیوں آیا۔اپنی مرضی کے خلاف بھی اگر کوئی بات ان کو کہی جاتی تو فوراً اس کی تعمیل ہوتی تھی۔ان کی بیماری اور وفات کی کچھ تفصیلات کا