خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 244
خطبات مسرور جلد 12 244 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اپریل 2014ء اُس قادر اور سچے اور کامل خدا کو ہماری روح اور ہمارا ذرہ ذرہ وجود کا سجدہ کرتا ہے جس کے ہاتھ سے ہر ایک روح اور ہر ایک ذرہ مخلوقات کا مع اپنی تمام قومی کے ظہور پذیر ہوا اور جس کے وجود سے ہر ایک وجود قائم ہے اور کوئی چیز نہ اس کے علم سے باہر ہے اور نہ اُس کے تصرف سے نہ اُس کی خُلق سے۔اور ہزاروں درود اور سلام اور رحمتیں اور برکتیں اُس پاک نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوں جس کے ذریعہ سے ہم نے وہ زندہ خدا پایا جو آپ کلام کر کے اپنی ہستی کا آپ ہمیں نشان دیتا ہے اور آپ فوق العادت نشان دکھلا کر اپنی قدیم اور کامل طاقتوں اور قوتوں کا ہم کو چمکنے والا چہرہ دکھاتا ہے۔سو ہم نے ایسے رسول کو پایا جس نے خدا کو ہمیں دکھلایا۔اور ایسے خدا کو پایا جس نے اپنی کامل طاقت سے ہر ایک چیز کو بنا یا۔اس کی قدرت کیا ہی عظمت اپنے اندر رکھتی ہے جس کے بغیر کسی چیز نے نقش وجود نہیں پکڑا اور جس کے سہارے کے بغیر کوئی چیز قائم نہیں رہ سکتی۔وہ ہمارا سچا خدا بیشمار برکتوں والا ہے اور بیشمار قدرتوں والا اور بیشمار حسن والا اور بے شمار احسان والا۔اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں۔“ نیم دعوت ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 363) پھر ایسے لوگوں کے بارے میں جو خدا تعالیٰ کو نہیں مانتے آپ فرماتے ہیں۔کہ خدا کی ذات غیب الغیب اور وراء الوراء اور نہایت مخفی واقع ہوئی ہے جس کو عقول انسانیہ محض اپنی طاقت سے دریافت نہیں کر سکتیں وہ چھپی ہوئی ہستی ہے اور اس کو صرف عقلوں سے محفوظ نہیں کیا جا سکتا۔دہر یہ لوگ کہتے ہیں کہ جی ہم عقل سے خدا تعالیٰ کو کس طرح سمجھیں یا صرف عقل سے ہی سمجھا جا سکتا ہے۔فرمایا ) عقول انسانیہ محض اپنی طاقت سے دریافت نہیں کر سکتیں اور کوئی برہان عقلی اس کے وجود پر قطعی دلیل نہیں ہو سکتی۔کوئی عقلی دلیل اس کے وجود پر قطعی دلیل نہیں ہوسکتی کیونکہ عقل کی دوڑ اور سعی صرف اس حد تک ہے کہ اس عالم کی صنعتوں پر نظر کر کے صانع کی ضرورت محسوس کرے۔۔۔۔عقل زیادہ سے زیادہ یہیں تک پہنچ سکتی ہے کہ کسی چیز کو دیکھ کر بتائے کہ اس کو کس نے بنایا ہے مگر ضرورت کا محسوس کرنا اور شئے ہے اور اس درجہ عین الیقین تک پہنچنا کہ جس خدا کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے وہ در حقیقت موجود بھی ہے یہ اور بات ہے۔ایک خدا کی ضرورت ہے وہ موجود بھی ہے کہ نہیں یہ بالکل اور بات ہے اور چونکہ عقل کا طریق ناقص اور نا تمام اور مشتبہ ہے اسلئے ہر ایک فلسفی محض عقل کے ذریعہ سے خدا کو شناخت نہیں کر سکتا بلکہ اکثر ایسے لوگ جو محض عقل کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا پتہ لگانا چاہتے ہیں آخر کار د ہر یہ بن جاتے ہیں۔اور مصنوعات زمین و آسمان پر غور کرنا کچھ بھی ان کو