خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 243 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 243

خطبات مسرور جلد 12 243 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اپریل 2014ء ( ہر پاک قدرت کے اظہار اس سے ہو رہے ہوتے ہیں اور مبدا ہے تمام مخلوق کا۔“ ( ہر چیز جو ہے وہی پیدا کرنے والا ہے اور سر چشمہ ہے تمام فیضوں کا۔( تمام فیض اسی سے ملتے ہیں۔) اور مال ہے تمام جزا سزا کا۔اور مرجع ہے تمام امور کا۔‘ تمام کام جو ہیں، تمام اعمال جو ہیں اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں اور نزدیک ہے باوجود ڈوری کے اور دُور ہے باوجود نزدیکی کے۔وہ سب سے اوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اور بھی ہے۔یعنی کہ اتنا وہ قریب ہے اور وہ سب چیزوں سے زیادہ پوشیدہ ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اُس سے کوئی زیادہ ظاہر ہے۔وہ زندہ ہے اپنی ذات سے اور ہر ایک چیز اس کے ساتھ زندہ ہے۔حق کا مطلب یہی ہے کہ زندہ بھی ہے اور زندہ رکھنے والا بھی ہے وہ قائم ہے اپنی ذات سے اور ہر ایک چیز اس کے ساتھ قائم ہے۔اُس نے ہر یک چیز کو اٹھارکھا ہے اور کوئی چیز نہیں جس نے اُس کو اُٹھا رکھا ہو۔یعنی ہر چیز کا انحصار اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی ہے کوئی چیز نہیں جو اس کے بغیر خود بخود پیدا ہوئی ہے یا اس کے بغیر خود بخود جی سکتی ہے۔وہ ہر یک چیز پر محیط ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ کیسا احاطہ ہے۔وہ آسمان اور زمین کی ہر یک چیز کا نور ہے اور ہر یک نوراسی کے ہاتھ سے چمکا۔اور اُسی کی ذات کا پر توہ ہے۔وہ تمام عالموں کا پروردگار ہے۔کوئی روح نہیں جو اس سے پرورش نہ پاتی ہو اور خود بخود ہو۔کسی روح کی کوئی قوت نہیں جو اس سے نہ ملی ہو اور خود بخود ہو۔اور اس کی رحمتیں دو قسم کی ہیں (۱) ایک وہ جو بغیر سبقت عمل کسی عامل کے قدیم سے ظہور پذیر ہیں جیسا کہ زمین اور آسمان اور سورج اور چاند اور ستارے اور پانی اور آگ اور ہوا اور تمام ذرات اس عالم کے جو ہمارے آرام کے لئے بنائے گئے۔ایسا ہی جن جن چیزوں کی ہمیں ضرورت تھی وہ تمام چیزیں ہماری پیدائش سے پہلے ہی ہمارے لئے مہیا کی گئیں اور یہ سب اُس وقت کیا گیا جبکہ ہم خود موجود نہ تھے۔نہ ہمارا کوئی عمل تھا۔کون کہہ سکتا ہے کہ سورج میرے عمل کی وجہ سے پیدا کیا گیا یاز مین میرے کسی شدھ کرم کے سبب سے بنائی گئی۔غرض یہ وہ رحمت ہے جو انسان اور اس کے عملوں سے پہلے ظاہر ہو چکی ہے جو کسی کے عمل کا نتیجہ نہیں (۲) دوسری رحمت وہ ہے جو اعمال پر مترتب ہوتی ہے۔(لیکچر لاہور ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 153-152) کہ جب عمل کرو نیک عمل کرو تو پھر اللہ تعالیٰ اس کی جزا دیتا ہے۔پھر آپ نے یہ بیان فرمایا کہ اب اس زمانے میں خدا تک پہنچنے کے لئے ایک ہی راستہ ہے اور وہ راستہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔آپ فرماتے ہیں: