خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 242
خطبات مسرور جلد 12 242 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اپریل 2014ء اور فرما یا هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوَّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنٰی۔یعنی وہ ایسا خدا ہے کہ جسموں کا بھی پیدا کرنے والا اور روحوں کا بھی پیدا کرنے والا۔رحم میں تصویر کھینچنے والا ہے۔بچے کی پیدائش سے پہلے جب بچہ رحم میں ہی ہوتا ہے تو وہیں اس کی شکل بنادیتا ہے۔تمام نیک نام جہاں تک خیال میں آ سکیں سب اسی کے نام ہیں۔اور پھر فرمایا۔يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔یعنی آسمان کے لوگ بھی اس کے نام کو پاکی سے یاد کرتے ہیں اور زمین کے لوگ بھی۔اس آیت میں اشارہ فرمایا کہ آسمانی اجرام میں آبادی ہے اور وہ لوگ بھی پابند خدا کی ہدایتوں کے ہیں۔( یعنی دنیا میں اور بھی ایسے گرے ہو سکتے ہیں جہاں آبادیاں ہوں، بلکہ ہیں۔) اور پھر فرمایا عَلى كُلّ شَيْءٍ قَدِيرٌ یعنی خدا بڑا قادر ہے۔یہ پرستاروں کے لئے تسلی ہے۔کیونکہ اگر خدا عاجز ہو اور قادر نہ ہو تو ایسے خدا سے کیا امید رکھیں۔اور پھر فرمایا۔رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔أَجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِي یعنی وہی خدا ہے جو تمام عالموں کا پرورش کرنے والا۔رحمن رحیم اور جزا کے دن کا آپ مالک ہے۔اس اختیار کو کسی کے ہاتھ میں نہیں دیا۔ہر ایک پکارنے والے کی پکار کو سنے والا اور جواب دینے والا یعنی دعاؤں کا قبول کرنے والا۔اور پھر فرمایا الحی القیوم یعنی ہمیشہ رہنے والا اور تمام جانوں کی جان اور سب کے وجود کا سہارا۔یہ اس لئے کہا کہ وہ ازلی ابدی نہ ہو تو اس کی زندگی کے بارے میں بھی دھڑ کا رہے گا کہ شاید ہم سے پہلے فوت نہ ہو جائے۔اور پھر فرمایا کہ وہ خدا اکیلا خدا ہے نہ وہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی اس کا بیٹا۔اور نہ کوئی اس کے برابر اور نہ کوئی اس کا ہم جنس۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 372-376) پھر آپ فرماتے ہیں: مذہب اسلام کے تمام احکام کی اصل غرض یہی ہے کہ وہ حقیقت جو لفظ اسلام میں مخفی ہے اُس تک پہنچایا جائے۔اسی غرض کے لحاظ سے قرآن شریف میں ایسی تعلیمیں ہیں کہ جو خدا کو پیارا بنانے کے لئے کوشش کر رہی ہیں۔کہیں اس کے حسن و جمال کو دکھاتی ہیں اور کہیں اُس کے احسانوں کو یاد دلاتی ہیں۔کیونکہ کسی کی محبت یا تو حسن کے ذریعہ سے دل میں بیٹھتی ہے اور یا احسان کے ذریعہ سے۔چنانچہ لکھا ہے کہ خدا اپنی تمام خوبیوں کے لحاظ سے واحد لاشریک ہے کوئی بھی اس میں نقص نہیں۔وہ مجمع ہے تمام صفات کاملہ کا۔۔۔( تمام صفات اس میں کامل طور پر جمع ہیں۔اور مظہر ہے تمام پاک قدرتوں کا۔۔۔6