خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 239
خطبات مسرور جلد 12 239 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اپریل 2014ء هُوَ اللهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمُ (الحشر: (23) مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ (الفاتحة (4 الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السّلمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَثِرُ (الحشر: 24) هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوَّرُ لَهُ الاسماء الحسنى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الحشر: 25) عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقرة: (21) رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتحة 2 (4) أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرة: 187) أَلْحَى الْقَيُّومُ۔(البقرة: 256) قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ۔اللهُ الصَّمَدُ۔لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَد - (الاخلاص : 2-5) یعنی وہ خدا جو واحد لاشریک ہے جس کے سوا کوئی بھی پرستش اور فرمانبرداری کے لائق نہیں۔یہ اس لئے فرمایا کہ اگر وہ لاشریک نہ ہو تو شاید اس کی طاقت پر دشمن کی طاقت غالب آ جائے۔اس صورت میں خدائی معرض خطرہ میں رہے گی۔اور یہ جوفرمایا کہ اس کے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں۔اس سے یہ مطلب ہے کہ وہ ایسا کامل خدا ہے جس کی صفات اور خوبیاں اور کمالات ایسے اعلیٰ اور بلند ہیں کہ اگر موجودات میں سے بوجہ صفات کاملہ کے ایک خدا انتخاب کرنا چاہیں یا دل میں عمدہ سے عمدہ اور اعلیٰ سے اعلیٰ خدا کی صفات فرض کریں تو سب سے اعلیٰ جس سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ نہیں ہوسکتا۔وہی خدا ہے جس کی پرستش میں ادنی کو شریک کرنا ظلم ہے۔جہاں تک بھی اعلیٰ سے اعلیٰ خدا کی سوچ پہنچ سکتی ہے اس کے ساتھ پھر کسی ادنی کو شریک نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔) وو۔۔۔پھر فرمایا کہ عالم الغیب ہے یعنی اپنی ذات کو آپ ہی جانتا ہے۔اس کی ذات پر کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ہم آفتاب اور ماہتاب اور ہر ایک مخلوق کا سراپا دیکھ سکتے ہیں مگر خدا کا سرا پا دیکھنے سے قاصر ہیں۔( ہر چیز کو ہم دیکھ سکتے ہیں لیکن خدا کو جسمانی صورت میں نہیں دیکھ سکتے۔) پھر فرمایا کہ وہ عَالِمُ الشَّهَادَة ہے یعنی کوئی چیز اس کی نظر سے پردہ میں نہیں ہے۔یہ جائز نہیں کہ وہ خدا کہلا کر پھر علم اشیاء سے غافل ہو۔وہ اس عالم کے ذرہ ذرہ پر اپنی نظر رکھتا ہے لیکن انسان نہیں رکھ سکتا۔وہ جانتا ہے کہ کب اس نظام کو توڑ دے گا اور قیامت برپا کر دے گا۔اور اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کب ہو گا؟ سو وہی خدا ہے جو ان تمام وقتوں کو جانتا ہے۔پھر فرمایا هُوَ الرحمن یعنی وہ جانداروں کی ہستی اور ان کے اعمال سے پہلے محض اپنے لطف سے نہ کسی غرض سے اور نہ کسی عمل کی پاداش