خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 18

خطبات مسرور جلد 12 18 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جنوری 2014ء پہن کر گئے تھے۔انہوں نے اپنے پیشے میں سب سے اونچا ایوارڈ حاصل کیا جو نوبل پرائز کے برابر تھا۔چونکہ احمدی تھے اس لئے دین پر کبھی کمپرومائز (compromise) نہیں کیا۔موسیقی کے اوپر انہوں نے بہت کچھ لکھا لیکن کبھی ایسی جگہوں پر ، ایسے فنکشنوں میں کبھی شامل نہیں ہوتے تھے جہاں شراب وغیر ہ ہو۔آپ کو حج اور عمرے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔مالی قربانی اور چندہ جات میں غیر معمولی قربانی پیش کرتے۔لوکل سیکرٹری مال کہتے ہیں کہ ان کی عادت تھی کہ مہینے کے دوران جب بھی ان کو تنخواہ کا چیک ملتا تو سب سے پہلے اپنے لازمی چندہ جات ادا کرتے تھے اور آپ کہا کرتے تھے کہ مجھے آج بھی اتنا ہی یقین ہے جتنا اُس وقت تھا جب میں نے بیعت کی کہ احمدیت کا راستہ سچائی کا راستہ ہے اور یہ وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ تھا۔مجھے یقین ہے کہ اس راستہ پر چلنے والا کوئی شخص تباہ نہیں ہوسکتا۔اور مجھے یقین ہے کہ اس راستے پر چلنے سے میں اور میرا خاندان نجات پا جائیں گے۔اور میرا ایمان ہے کہ احمدیت تمام انسانوں میں بھائی چارہ پیدا کرنے کی تعلیم پیش کرتی ہے۔آپ کو قادیان اور بوہ کی زیارت کا بھی موقع ملا۔لندن بھی گزشتہ سال جلسہ پر آئے ہوئے تھے۔خلافت سے ان کو والہانہ محبت تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو بھی ملے ہوئے ہیں۔حضرت خلیفہ رابع کو بھی اور مجھے بھی ملے تھے۔جلسہ پر جب آئے ہیں تو بیمار تھے۔ویل چیئر پر ہی تھے۔بہت نیک اور نمازوں کے پابند تھے۔نماز جمعہ کی ادائیگی میں با قاعدہ تھے۔نہایت شفیق اور ہر ایک سے پیار ومحبت کا سلوک کرنے والے مخلص انسان تھے۔احمدی احباب کے علاوہ غیر از جماعت دوستوں سے بھی بڑی محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے۔لمبا عرصہ ان کو مختلف حیثیتوں سے جماعتی خدمتوں کی توفیق ملی۔دعوت الی اللہ کا بہت شوق رکھتے تھے۔جماعتی لٹریچر اپنے ہمسایوں اور رشتے داروں اور دوستوں میں تقسیم کیا کرتے تھے۔جیب میں ہمہ وقت کچھ فلائرز وغیرہ رکھتے اور جہاز میں اپنے ہم سفروں میں تقسیم کرتے اپنے خرچ پر نا بینا افراد کے لئے ” اسلامی اصول کی فلاسفی اور بچوں کی تربیت کے متعلق کتب انہوں نے شائع کیں۔مرحوم موصی تھے۔ان کے پسماندگان میں اہلیہ محترمہ عائشہ لطیف صاحبہ اور ایک بیٹا مکرم یوسف لطیف صاحب بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور ان کی نیکیوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 24 جنوری 2014 ء تا 30 جنوری 2014، جلد 21 شماره 04 صفحه 05تا10)