خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 223
خطبات مسرور جلد 12 223 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 اپریل 2014ء اسی خطبہ الہامیہ کے متعلق دو خوا ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قلم مبارک سے لکھی ہوئی ملی ہیں جو تذکرے میں بھی درج ہیں۔19 اپریل 1900ء کی تاریخ دے کر حضور نے میاں عبداللہ صاحب سنوری کی مندرجہ ذیل خواب لکھی ہے کہ میاں عبد اللہ سنوری کہتے ہیں کہ منشی غلام قادر مرحوم سنور والے یہاں آئے ہیں۔ان سے انہوں نے پوچھا ہے کہ اس جلسہ کی بابت اُس طرف کی خبر دو۔کیا کہتے ہیں۔تو اس نے جواب دیا کہ اوپر بڑی دھوم مچ رہی ہے۔( یہ خواب بیان کر رہے ہیں کہ اوپر کیا حالات ہیں؟)۔یہ خواب بعینہ سید امیر علی شاہ صاحب کے خواب سے مشابہ ہے کیونکہ انہوں نے دیکھا تھا کہ جس وقت عربی خطبہ بروز عید پڑھا جا تا تھا اس وقت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام جلسہ میں موجود ہیں اور اس خطبہ کو سن رہے ہیں۔یہ خواب میں خطبہ پڑھنے کے وقت ہی بطور کشف اس جگہ بیٹھے ہوئے ان کو معلوم ہو گیا تھا۔“ بعض صحابہ کے بھی تاثرات ہیں۔حضرت حافظ عبد العلی صاحب بیان فرماتے ہیں کہ ( تذکرہ صفحہ 290 حاشیہ ایڈیشن چہارم) میں بوقت خطبہ الہامیہ موجود تھا۔حضور کی آواز اس وقت بدلی ہوئی تھی۔ضلع سیالکوٹ کا ایک سید لهم [ خادم حضور ] ( سید صاحب تھے ان کو الہام ہوا کرتا تھا لیکن بہر حال وہ احمدی تھے ) میرے پاس بیٹھا ہوا تھا۔وہ کہہ رہا تھا کہ فرشتے بھی سننے کے لئے موجود ہیں۔“ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر 3 صفحہ 146 روایت حضرت حافظ عبدالعلی صاحب) حضرت مرز افضل بیگ صاحب بیان فرماتے ہیں کہ عید الاضحی کا خطبہ الہامیہ میرے سامنے حضرت اقدس نے مسجد اقصیٰ میں جو پرانی مسجد مسیح موعود کے وقت کی ہے محراب اندرون دروازے کے سامنے باہر کے دروازے میں کھڑے ہو کر خطبہ بزبان عربی میں پڑھا۔( یعنی جو بر آمرے کی ڈاٹ تھی یا در تھا اس کے اوپر کھڑے ہوکر) حضور ہر لفظ کو تین بار دہراتے تھے اور مولوی حاجی خلیفہ اسیح اول اور مولوی عبد الکریم صاحب یہ ہر دو صاحب کتابت کرتے تھے اور حضور سے دریافت کرتے تھے کہ لفظ س سے ہے یاث سے۔عین سے یا الف سے ہے۔( یعنی