خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 222
خطبات مسرور جلد 12 222 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اپریل 2014ء خدا نے دکھلایا اور کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا۔“ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 375-376) پس یہ چیلنج آج تک قائم ہے۔یہ خطبہ دے دیا تو (اس بارہ میں ) بعض مزید باتیں تاریخ احمدیت میں لکھی ہیں کہ وو خطبہ چونکہ ایک زبر دست علمی نشان تھا۔۔۔۔“ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ”۔۔۔۔۔اس لئے اس کی خاص اہمیت کے پیش نظر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے خدام میں تحریک فرمائی کہ اسے حفظ کیا جائے۔چنانچہ اس کی تعمیل میں صوفی غلام محمد صاحب، حضرت میر محمد اسمعیل صاحب، مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کے علاوہ بعض اور اصحاب نے اسے زبانی یاد کیا۔بلکہ مؤخر الذکر د واصحاب نے مسجد مبارک کی چھت پر مغرب و عشاء کے درمیان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں بھی اسے زبانی سنایا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب جو انتہا درجہ ادبی ذوق رکھتے تھے وہ تو اس خطبہ کے اتنے عاشق تھے کہ اکثر اسے سناتے رہتے تھے اور اس کی بعض عبارتوں پر تو وہ ہمیشہ وجد میں آ جاتے۔مولوی صاحب ایسے بلند پایہ عالم کو خطبہ الہامیہ کے اعجازی کلام پر وجد آنا ایک طبعی بات قرار دی جا سکتی ہے مگر خدا کی طرف سے ایک تعجب انگیز امر یہ پیدا ہوا کہ تقریر سنے والے بچے بھی اس کی جذب و کشش سے خالی نہیں تھے۔چنانچہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کا بیان ہے کہ وہ دن جس میں یہ تقریر کی گئی ابھی ڈوبا نہیں تھا کہ چھوٹے چھوٹے بچے جن کی عمر بارہ سال سے بھی کم تھی اس کے فقرے قادیان کے گلی کو چوں میں دہراتے پھرتے تھے ( یعنی خطبہ کے فقرے ) جو ایک غیر معمولی بات تھی۔یہ خطبہ اگست 1901ء میں شائع ہوا۔حضور نے نہایت اہتمام سے اسے کا تب سے لکھوایا۔فارسی اور اردو میں ترجمہ بھی خود کیا اور اعراب بھی خود لگائے۔اصل خطبہ کتاب کے (جو خطبہ الہامیہ کتاب ہے اس کے اڑتیسویں صفحہ پر ختم ہو جاتا ہے جو کتاب کے باب اول کے تحت درج ہے۔اگلا حصہ آخر تک عام تصنیف ہے جس کا اضافہ حضور نے بعد میں فرمایا۔اور پوری کتاب کا نام خطبہ الہامیہ رکھا گیا“ (یعنی پہلا حصہ جو ہے وہ اصل خطبہ الہامیہ ہے۔الہامی ہے۔یہ کتاب شائع ہوئی تو بڑے بڑے عربی دان اس کی بے نظیر زبان اور عظیم الشان حقائق و معارف پڑھ کر دنگ رہ گئے۔حق تو یہ ہے کہ مسیح محمدی کا یہ وہ علمی نشان ہے جس کی نظیر قرآن مجید کے بعد نہیں ملتی۔“ تاریخ احمدیت جلد دوم صفحه 85-86)