خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 219 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 219

خطبات مسرور جلد 12 219 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 اپریل 2014ء گزرے اور غیر اس کے متعلق کیا کہتے ہیں۔اسی طرح اس خطبہ کی چند سطریں یا بعض چھوٹے سے اقتباسات پیش کروں گا۔اس الہا می خطبہ کی حقیقت اور عظمت کا تو اسے پڑھنے سے ہی پتا چلتا ہے لیکن یہ چند فقرے جو میں پیش کروں گا جو میں نے پڑھنے کے لئے چنے ہیں ان میں بھی اس کی عظمت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقام و مرتبے کا پتا چلتا ہے۔تذکرہ میں یہ خطبہ الہامیہ شاید اس لئے شامل نہیں کیا گیا کہ علیحدہ کتابی صورت میں چھپا ہوا ہے لیکن بہر حال مجھے اس بارے میں کچھ تحفظات ہیں۔اس لئے آئندہ جب بھی تذکرہ شائع ہو یا آئندہ کسی زبان میں جو بھی ایڈیشن شائع ہوں تو متعلقہ ادارے اس بارے میں مجھ سے پوچھ لیں۔اس خطبہ الہامیہ کا پس منظر یہ ہے جو بدر نے لکھا ہے، اخبار الحکم نے بھی لکھا تھا یا جماعتی روایات میں آ رہا ہے کہ فیوم العرفات کو یعنی بڑی عید عبید الافعی سے ایک دن پہلے علی اصح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بذریعہ ایک خط کے حضرت مولانا نورالدین صاحب کو اطلاع دی۔کہ میں آج کا دن اور رات کا کسی قدر حصہ اپنے اور اپنے دوستوں کے لئے دعا میں گزارنا چاہتا ہوں۔اس لئے وہ دوست جو یہاں موجود ہیں اپنا نام معہ جائے سکونت ( یعنی پتہ وغیرہ کہاں رہتے ہیں) لکھ کر میرے پاس بھیج دیں، تا کہ دعا کرتے وقت مجھ یادر ہے۔“ اس پر تعمیل ارشاد میں ایک فہرست احباب کی ترتیب دے کر حضور کی خدمت میں بھیج دی گئی۔اس کے بعد اور احباب باہر سے آ گئے جنہوں نے زیارت و دعا کے لئے بیقراری ظاہر کی اور رفعے بھیجنے شروع کر دیئے۔حضور نے دوبارہ اطلاع بھیجی کہ ”میرے پاس اب کوئی رقعہ وغیرہ نہ بھیجے۔اس طرح سخت ہرج ہوتا ہے۔“ مغرب وعشاء میں حضور تشریف لائے جو جمع کر کے پڑھی گئیں۔بعد فراغت فرمایا: چونکہ میں خدا تعالیٰ سے وعدہ کر چکا ہوں کہ آج کا دن اور رات کا حصہ دعاؤں میں گزاروں۔اس لئے میں جاتا ہوں تاکہ تخلف وعدہ نہ ہو۔“ ( وعدہ خلافی نہ ہو ) یہ فرما کر حضور تشریف لے گئے اور دعاؤں میں مشغول ہو گئے۔دوسری صبح عید کے دن مولوی عبدالکریم صاحب نے اندر جا کر تقریر کرنے کے لئے خصوصیت سے عرض کی۔اس پر حضور نے فرمایا: