خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 213
خطبات مسرور جلد 12 خوف کا تمہیں خوف ہو۔“ 213 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 104 اپریل 2014ء ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 173-172) پھر فرماتے ہیں ' جب اللہ تعالیٰ سے بالکل راضی ہو جاوے اور کوئی شکوہ شکایت نہ رہے اس وقت محبت ذاتی بیدار ہو جاتی ہے۔اور جب تک اللہ تعالیٰ سے محبت ذاتی پیدا نہ ہو تو ایمان بڑے خطرہ کی حالت میں ہے لیکن جب ذاتی محبت ہو جاتی ہے تو انسان شیطان کے حملوں سے امن میں آجاتا ہے۔اس ذاتی محبت کو دعا سے حاصل کرنا چاہئے۔جب تک یہ محبت پیدا نہ ہو انسان نفس امارہ کے نیچے رہتا ہے اور اس کے پنجہ میں گرفتار رہتا ہے اور ایسے لوگ جو نفس امارہ کے نیچے ہیں ان کا قول ہے ( پنجابی میں فرمایا کہ ) ایہہ جہان مٹھا اگلا کن ڈٹھا (یعنی یہ جہان تو میٹھا میٹھا ہے اگلا جہاں پتا نہیں آتا ہے کہ نہیں آنا، کون سا ہم نے دیکھا ہے ) یہ لوگ بڑی خطرناک حالت میں ہوتے ہیں اور لو امہ والے ایک گھڑی میں ولی اور ایک گھڑی میں شیطان ہو جاتے ہیں۔( دوسری حالت لوامہ کی ہے۔ان کی حالت یہ ہے کہ ایک وقت میں تو ولی ہو جاتے ہیں اور دوسرے وقت میں شیطان بھی ہو جاتے ہیں۔اوپر نیچے حالت ہوتی ہے۔ان کا ایک رنگ نہیں رہتا کیونکہ ان کی لڑائی نفس کے ساتھ شروع ہوتی ہے جس میں کبھی وہ غالب اور کبھی مغلوب ہوتے ہیں تاہم یہ لوگ محل مدح میں ہوتے ہیں کیونکہ ان سے نیکیاں بھی سرزد ہوتی ہیں اور خوف خدا بھی ان کے دل میں ہوتا ہے لیکن نفس مطمئنہ والے بالکل فتح مند ہوتے ہیں اور وہ سارے خطروں اور خوفوں سے نکل کر امن کی جگہ میں جا پہنچتے ہیں۔وہ اس دارالاماں میں ہوتے ہیں جہاں شیطان نہیں پہنچ سکتا۔“ ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 251-250 پھر ایک مؤمن کے عشق الہی کے معیار کے بارے میں فرمایا کہ " مؤمن کا رنگ عاشق کا رنگ ہوتا ہے اور وہ اپنے عشق میں صادق ہوتا ہے اور اپنے معشوق یعنی خدا کے لیے کامل اخلاص اور محبت اور جان فدا کرنے والا جوش اپنے اندر رکھتا ہے اور تضرع اور ابتہال اور ثابت قدمی سے اس کے حضور میں قائم ہوتا ہے۔دنیا کی کوئی لذت اس کے لیے لذت نہیں ہوتی۔اس کی روح اسی عشق میں پرورش پاتی ہے۔معشوق کی طرف سے استغنا دیکھ کر وہ گھبرا تا نہیں۔اس طرف سے خاموشی اور بے التفاتی بھی معلوم کر کے وہ کبھی ہمت نہیں ہارتا بلکہ ہمیشہ قدم آگے ہی رکھتا ہے اور درد دل زیادہ سے زیادہ پیدا کرتا جاتا ہے۔ان دونوں چیزوں کا ہونا ضروری ہے کہ مومن عاشق ( جو مؤمن عاشق ہے )’ کی طرف سے محبت الہی میں پورا استغراق ہو۔“ ( مؤمن عاشق بن کے محبت الہی میں پوری طرح