خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 212 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 212

خطبات مسرور جلد 12 212 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 104 اپریل 2014ء ذاتی کے برخلاف ہو بلکہ چاہئے کہ صدق اور وفاداری سے بھرے ہوئے ہوں اور ساتھ اس کے یہ بھی چاہئے کہ ہر ایک قسم کے شرک سے پر ہیز ہو۔نہ سورج نہ چاند نہ آسمان کے ستارے نہ ہوانہ آگ نہ پانی نہ کوئی اور زمین کی چیز معبود ٹھہرائی جائے اور نہ دنیا کے اسباب کو ایسی عزت دی جائے اور ایسا ان پر بھروسہ کیا جائے کہ گویا وہ خدا کے شریک ہیں اور نہ اپنی ہمت اور کوشش کو کچھ چیز سمجھا جائے کہ یہ بھی شرک کے قسموں میں سے ایک قسم ہے بلکہ سب کچھ کر کے یہ سمجھا جائے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا۔اور نہ اپنے علم پر کوئی غرور کیا جائے اور نہ اپنے عمل پر کوئی ناز۔بلکہ اپنے تئیں فی الحقیقت جاہل سمجھیں اور کاہل سمجھیں اور خدا تعالیٰ کے آستانہ پر ہر ایک وقت روح گری رہے اور دعاؤں کے ساتھ اس کے فیض کو اپنی طرف کھینچا جائے اور اس شخص کی طرح ہو جائیں کہ جو سخت پیاسا اور بے دست و پا بھی ہے اور اس کے سامنے ایک چشمہ نمودار ہوا ہے نہایت صافی اور شیر ہیں۔پس اس نے افتان و خیزاں بہر حال اپنے تئیں اس چشمہ تک پہنچادیا اور اپنی لبوں کو اس چشمہ پر رکھ دیا اور علیحدہ نہ ہوا جب تک سیراب نہ ہوا۔“ لیکچر لاہور روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 154) پھر محبت الہی کے معیار کا ذکر فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر یہ معلوم کر لو کہ تم میں ایک عاشق صادق کی سی محبت ہے جس طرح وہ اس کے ہجر میں، اس کے فراق میں بھوکا مرتا ہے پیاس سہتا ہے نہ کھانے کی ہوش نہ پانی کی پرواہ۔نہ اپنے تن بدن کی کچھ خبر اسی طرح تم بھی خدا کی محبت میں ایسے محو ہو جاؤ کہ تمہارا وجود ہی درمیان سے گم ہو جاوے پھر اگر ایسے تعلق میں انسان مر بھی جاوے تو بڑا ہی خوش قسمت ہے۔ہمیں تو ذاتی محبت سے کام ہے۔نہ کشوف سے غرض نہ الہام کی پرواہ (یہ لوگ کہتے ہیں ناں کہ کشف ہوا یا الہام ہوا ہے۔ذاتی محبت اللہ تعالیٰ سے ہو تو وہ اصل چیز ہے۔یہ نہیں کہ کتنے الہام ہوئے اور کتنے کشف آئے اور کتنی سچی خوا ہیں آئیں ''دیکھو ایک شرابی شراب کے جام کے جام پیتا ہے اور لذت اٹھاتا ہے۔اسی طرح تم اس کی ذاتی محبت کے جام بھر بھر کے پیو۔جس طرح وہ دریا نوش ہوتا ہے اسی طرح تم بھی کبھی سیر نہ ہونے والے بنو۔جب تک انسان اس امر کو محسوس نہ کر لے کہ میں محبت کے ایسے درجہ کو پہنچ گیا ہوں کہ اب عاشق کہلا سکوں تب تک پیچھے ہر گز نہ ہے۔قدم آگے ہی آگے رکھتا جاوے اور اس جام کومنہ سے نہ ہٹائے۔اپنے آپ کو اس کے لیے بیقرار وشید او مضطرب بنا لو۔اگر اس درجہ تک نہیں پہنچے تو کوڑی کے کام کے نہیں۔ایسی محبت ہو کہ خدا کی محبت کے مقابل پر کسی چیز کی پرواہ نہ ہو۔نہ کسی قسم کی طمع کے مطیع بنو اور نہ کسی قسم کے