خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 211 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 211

خطبات مسرور جلد 12 66 211 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 104 اپریل 2014ء کے دور کرنے کے لئے سیدھا علاج مستحکم تعلق ہے۔“ (اپنا مضبوط تعلق اللہ تعالیٰ سے پیدا کر و تبھی یہ خشکی دور ہوگی نہیں تو سوکھے ہوئے درخت کی طرح انسان روحانی لحاظ سے بالکل ختم ہو جاتا ہے۔فرمایا کہ ) جس پر قانون قدرت گواہی دیتا ہے۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ کر کے فرماتا ہے۔یاتھا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِى إِلى رَبَّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جنَّتِي ( الفجر : 28-31) یعنی اے وہ نفس جو خدا سے آرام یافتہ ہے اپنے رب کی طرف واپس چلا آ۔وہ تجھ سے راضی اور تو اس سے راضی۔پس میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میرے بہشت کے اندر فرمایا کہ غرض گناہ کے دور کرنے کا علاج صرف خدا کی محبت اور عشق ہے۔لہذا وہ تمام اعمال صالحہ جو محبت اور عشق کے سرچشمہ سے نکلتے ہیں گناہ کی آگ پر پانی چھڑ کہتے ہیں کیونکہ انسان خدا کیلئے نیک کام کر کے اپنی محبت پر مہر لگاتا ہے۔خدا کو اس طرح پر مان لینا کہ اس کو ہر ایک چیز پر مقدم رکھنا یہاں تک کہ اپنی جان پر بھی۔یہ وہ پہلا مرتبہ محبت ہے جو درخت کی اس حالت سے مشابہ ہے جبکہ وہ زمین میں لگایا جاتا ہے۔اور پھر دوسرا مرتبہ استغفار جس سے یہ مطلب ہے کہ خدا سے الگ ہو کر انسانی وجود کا پردہ نہ کھل جائے۔اور یہ مرتبہ درخت کی اس حالت سے مشابہ ہے جبکہ وہ زور کر کے پورے طور پر اپنی جڑ زمین میں قائم کر لیتا ہے اور پھر تیسرا مرتبہ تو بہ جو اس حالت کے مشابہ ہے کہ جب درخت اپنی جڑیں پانی سے قریب کر کے بچہ کی طرح اس کو چوستا ہے۔غرض گناہ کی فلاسفی یہی ہے کہ وہ خدا سے جدا ہوکر پیدا ہوتا ہے۔لہذا اس کا دور کرنا خدا کے تعلق سے وابستہ ہے۔پس وہ کیسے نادان لوگ ہیں جو کسی کی خود کشی کو گناہ کا علاج کہتے ہیں۔“ (سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن۔جلد 12 صفحہ 328 تا330) پھر اللہ تعالیٰ کے قرب پانے کے ذریعہ کا ذکر فرماتے ہوئے آپ ایک جگہ فرماتے ہیں۔قرآن شریف۔۔۔اس تعلیم کو پیش کرتا ہے جس کے ذریعہ سے اور جس پر عمل کرنے سے اسی دنیا میں دیدار الہی میسر آ سکتا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔مَن كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحاً وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا (الكهف : 111 ) یعنی جو شخص چاہتا ہے کہ اسی دنیا میں اس خدا کا دیدار نصیب ہو جائے جو حقیقی خدا اور پیدا کنندہ ہے۔پس چاہئے کہ وہ ایسے نیک عمل کرے جن میں کسی قسم کا فساد نہ ہو۔یعنی عمل اس کے نہ لوگوں کے دکھلانے کے لئے ہوں نہ ان کی وجہ سے دل میں تکبر پیدا ہو کہ میں ایسا ہوں اور ایسا ہوں اور نہ وہ عمل ناقص اور نا تمام ہوں اور نہ ان میں کوئی ایسی بد بو ہو جو محبت