خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 205
خطبات مسرور جلد 12 205 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 104 اپریل 2014ء احسان کی عظمتوں پر نظر ڈال کر پیدا ہوا کرتا ہے اور نہ وہ محبت ان میں حرکت کرتی ہے جو محسن کی عنایات عظیمہ کا تصور کر کے جنبش میں آیا کرتی ہے بلکہ صرف ایک اجمالی نظر سے خدا تعالیٰ کے حقوق خالقیت وغیرہ کو تسلیم کر لیتے ہیں۔اللہ کا احسان نہیں مانتے لیکن بہر حال مجموعی طور پر کیونکہ ایک ایمان ہوتا ہے، یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کا جو حق ہے یا اس کے مخلوق ہونے کا جو حق ہے وہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا) فرمایا کہ اور احسان الہی کی ان تفصیلات کو جن پر ایک بار یک نظر ڈالنا اس حقیقی محسن کو نظر کے سامنے لے آتا ہے ہرگز مشاہدہ نہیں کرتے ( عمومی طور پر تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں۔خدا تعالیٰ سے محبت ہے لیکن ہر فائدہ جو وہ اُٹھا رہے ہوتے ہیں اس فائدہ کے اُٹھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احسان کو سامنے نہیں رکھتے بلکہ دنیاوی فائدوں کو ، دنیاوی اسباب کو سامنے رکھ رہے ہوتے ہیں۔فرمایا وجہ کیا ہے اس کی ؟ کیونکہ اسباب پرستی کا گردوغبار مسبب حقیقی کا پورا چہرہ دیکھنے سے روک دیتا ہے ( کیونکہ ظاہری طور پر جو اسباب ہیں جن سے انسان فائدہ اُٹھارہا ہوتا ہے، انہوں نے اس طرح ڈھانک لیا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ جو ان سب اسباب کو پیدا کرنے والا ہے اس کا چہرہ نظر نہیں آتا۔پھر کیونکہ اسباب پرستی ہے اس لئے مسبب حقیقی کا پورا چہرہ دیکھنے سے یہ چیز روک دیتی ہے) اس لئے ان کو وہ صاف نظر میسر نہیں آتی جس سے کامل طور پر معطی حقیقی کا جمال مشاہدہ کر سکتے۔( وہ جو ہر چیز عطا کرنے والا ہے اصل میں تو حقیقی طور پر وہی ہے جو ہر چیز دینے والا ہے اس کی جو خوبصورتی ہے اس کا جوحسن ہے وہ ہمارے سامنے نہیں آتا۔تو فرمایا کہ ) سو ان کی ناقص معرفت رعایت اسباب کی کدورت سے ملی ہوئی ہوتی ہے اور بوجہ اس کے جو وہ خدا کے احسانات کو اچھی طرح دیکھ نہیں سکتے خود بھی اس کی طرف وہ التفات نہیں کرتے جو احسانات کے مشاہدہ کے وقت کرنی پڑتی ہے جس سے محسن کی شکل نظر کے سامنے آجاتی ہے بلکہ ان کی معرفت ایک دھندلی سی ہوتی ہے۔وجہ یہ کہ وہ کچھ تو اپنی محنتوں اور اپنے اسباب پر بھروسہ رکھتے ہیں اور کچھ تکلف کے طور پر یہ بھی مانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا حق خالقیت اور رزاقیت ہمارے سر پر واجب ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ انسان کو اس کے وسعت فہم سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اس لئے ان سے جب تک کہ وہ اس حالت میں ہیں یہی چاہتا ہے کہ اس کے حقوق کا شکر ادا کریں اور آیت إنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ (النحل : 91)۔میں عدل سے مراد یہی اطاعت برعایت عدل ہے۔( چونکہ ان کو پوری طرح علم نہیں ، صرف اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور اس کے رازق ہونے کا چاہے وہ زبانی ہو ا ظہار کر رہے ہوتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ بھی ان کی اسی حالت کو سامنے رکھتے ہوئے جتنا جتنا بھی شکر وہ ادا کر رہے