خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 202
خطبات مسرور جلد 12 202 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 اپریل 2014ء العجل (البقرة: 94)۔یعنی انہوں نے گوسالہ سے ایسی محبت کی کہ گویا ان کو گوسالہ شربت کی طرح پلا دیا گیا۔در حقیقت جو شخص کسی سے کامل محبت کرتا ہے تو گویا اسے پی لیتا ہے یا کھا لیتا ہے اور اس کے اخلاق اور اس کے چال چلن کے ساتھ رنگین ہو جاتا ہے اور جس قدر زیادہ محبت ہوتی ہے اسی قدر انسان بالطبع اپنے محبوب کی صفات کی طرف کھینچا جاتا ہے یہاں تک کہ اسی کا روپ ہو جاتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔یہی بھید ہے کہ جو شخص خدا سے محبت کرتا ہے وہ خالی طور پر بقدرا اپنی استعداد کے اس نور کو حاصل کر لیتا ہے جو خدا تعالیٰ کی ذات میں ہے اور شیطان سے محبت کرنے والے وہ تاریکی حاصل کر لیتے ہیں جو شیطان میں ہے۔( یعنی فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنا نا یہی محبت کا راز ہے۔معرفت کے ضمن میں بتایا گیا تھا کہ جب تک تمام صفات کا علم نہ ہو معرفت نہیں ہو سکتی اور معرفت کے بعد جب انسان مزید آگے بڑھتا ہے تو وہ محبت ہے اور محبت اسی وقت کامل ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنا یا بھی جائے۔صرف علم حاصل کرنا ہی ضروری نہیں بلکہ اسے اپنایا بھی جائے۔اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہوا جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کا نور حاصل ہوتا ہے۔) وو پھر آپ فرماتے ہیں کہ ( نور القرآن نمبر 2 ، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 430) محبت کی حقیقت بالالتزام اس بات کو چاہتی ہے کہ انسان سچے دل سے اپنے محبوب کے تمام شمائل اور اخلاق اور عبادات پسند کرے اور ان میں فنا ہونے کے لئے بدل و جان ساعی ہوتا اپنے محبوب میں ہوکر وہ زندگی پاوے جو محبوب کو حاصل ہے۔سچی محبت کرنے والا اپنے محبوب میں فنا ہو جاتا ہے۔اپنے محبوب کے گریبان سے ظاہر ہوتا ہے اور ایسی تصویر اس کی اپنے اندر کھینچتا ہے کہ گویا اسے پی جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ اس میں ہو کر اور اس کے رنگ میں رنگین ہوکر اور اس کے ساتھ ہوکر لوگوں پر ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ در حقیقت اس کی محبت میں کھویا گیا ہے۔“ ( نور القرآن نمبر 2، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 431) پھر محبت الہی کے معیار کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔یہ ایک اقتباس ہے۔اصل میں یہ پادری فتح مسیح کے خط کے جواب میں آپ فرمارہے ہیں جس نے کچھ اعتراضات کئے تھے اور آپ نے ان کے جواب دیئے۔آپ نے فرمایا آپ نے یہ اعتراض کیا ہے کہ مسلمان لوگ خدا کے ساتھ بھی بلا غرض محبت نہیں کرتے ان کو