خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 201
خطبات مسرور جلد 12 201 14 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 104 اپریل 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسروراحمد خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 104اپریل 2014 ء بمطابق 04 شہادت 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت الہی سے متعلق کچھ تحریرات پیش کروں گا، ارشادات پیش کروں گا جن میں آپ نے محبت الہی کی حقیقت اور تعریف بھی بیان فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کا راز اور طریق اور اس کی گہرائی اور فلاسفی بھی بیان فرمائی ہے اور ہمارے سے، جو آپ کے ماننے والے ہیں جو آپ کی جماعت میں شامل ہیں محبت الہی کے بارے میں کیا تو قعات رکھی ہیں۔یہ سب بھی بیان فرمایا کہ ہماری کیا کوشش ہونی چاہئے اور اس کے کیا معیار ہونے چاہئیں۔پس اس لحاظ سے ہر حوالہ ہی قابل غور ہے اور ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔اس لئے توجہ سے سننے کی ضرورت ہے تا کہ ہم محبت الہی کے مضمون کی روح کو سمجھتے ہوئے اس میں بڑھنے والے ہوں اور اضافہ کرنے والے ہوں اور اپنی اصلاح کرنے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : محبت کوئی تصنع اور تکلف کا کام نہیں بلکہ انسانی قومی میں سے یہ بھی ایک قوت ہے۔اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ دل کا ایک چیز کو پسند کر کے اس کی طرف کھنچے جانا اور جیسا کہ ہر یک چیز کے اصل خواص اس کے کمال کے وقت بدیہی طور پر محسوس ہوتے ہیں (بہت کھلے اور واضح محسوس ہوتے ہیں ) یہی محبت کا حال ہے کہ اس کے جو ہر بھی اس وقت کھلے کھلے ظاہر ہوتے ہیں کہ جب اتم اور اکمل درجہ پر پہنچ جائے۔“ ( کمال اور اتمام ایسی ہو جو اپنے انتہا کو پہنچ جائے) فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اُشْرِ بُوا فِي قُلُوبِهِمُ