خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 194 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 194

خطبات مسرور جلد 12 194 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 مارچ 2014ء واقعات پیش کرتا ہوں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں لوگوں کی رہنمائی فرمائی۔حضرت شیخ محمد افضل صاحب فرماتے ہیں کہ ” جس وقت خاکسار کی عمر بارہ سال کی تھی اور گو ہمارے خاندان میں میرے تایا حکیم شیخ عباد اللہ صاحب اور میرے تایا زاد بھائی شیخ کرم الہی صاحب حضرت صاحب سے بیعت تھے مگر خادم نے نہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا تھا اور نہ ہی حضور کا فوٹو دیکھا تھا۔خواب دیکھا کہ میرے جسم کی تمام جان نکل گئی ہے مگر دماغ میں سمجھنے کی اور آنکھوں میں دیکھنے کی طاقت باقی ہے۔میرے سامنے ایک بزرگ بیٹھے ہیں اور ان کے پیچھے گھٹنوں تک قدم مبارک دکھائی دیتے ہیں۔( یعنی ایک بزرگ پیچھے بیٹھے ہیں اور پیچھے قدم نظر آ رہے ہیں گھٹنوں تک ) میرے دل میں ڈالا گیا یہ بزرگ جو بیٹھے تیری طرف دیکھ رہے ہیں مرزا صاحب ہیں اور پچھلی طرف جو قدم مبارک نظر آتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں۔میری آنکھ کھل گئی۔صبح میں نے مرتضیٰ خان ولد مولوی عبداللہ خان صاحب جو ان دنوں لاہوری جماعت میں شامل ہیں، سے تعبیر دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ تم کو مرزا صاحب کی بدولت رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی حاصل ہوگی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور میں خدا کی قسم کھا کر تحریر کرتا ہوں کہ جب 1905ء میں میں بیعت ہوا تو حضور وہی تھے جو خواب میں میری طرف دیکھ رہے تھے۔اس طرح سے خدا جس کو چاہتا ہے سچا راستہ دکھا دیتا ہے۔“ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 7 صفحہ نمبر 218-219 روایت حضرت شیخ محمد افضل صاحب) پھر حضرت نظام الدین صاحب فرماتے ہیں کہ میں ابھی بیعت میں داخل نہیں ہوا۔نماز عصر مسجد مبارک سے پڑھ کر پرانی سیڑھیوں سے جب نیچے اترا تو ابھی سقفی ڈیوڑھی میں تھا ( یعنی جو چھتا ہوا باہر کمرہ ہے، اسی میں تھا) کہ دو آدمی بڑے معزز سفید پوش جوان قد والے ملے جو مجھے سوال کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کا پتہ مہربانی کر کے بتلائیں کہ کہاں ہیں۔ہم بہت دور دراز سے سفر طے کر کے یہاں پہنچے ہیں۔تو میں نے کہا آؤ میں بتلا دوں۔انہوں نے کہا نہیں آپ ہمارے پیچھے ہو جا ئیں اوپر ہیں (اگر آپ اوپر ہیں ) تو ہم پہچانیں گے۔تب میں ان کے پیچھے ہو لیا۔وہ میرے آگے آگے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے چلے گئے۔آگے اجلاس لگا ہوا تھا اور حضور دستار مبارک سر سے اتارے ہوئے بے تکلف حالت میں بیٹھے ہوئے تھے۔( آگے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے اور آپ بھی بیٹھے تھے ، پگڑی اتاری ہوئی تھی۔کہتے ہیں ) ” جاتے ہوئے ان میں سے ایک شخص نے حضور کو جاتے ہی پوچھا