خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 185 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 185

خطبات مسرور جلد 12 185 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 مارچ 2014ء كَيْدِي متين (الاعراف: 184) ہمیشہ یادرکھنا چاہئے۔پکڑ انشاء اللہ ان کی بھی ہوگی پر وہ باز نہیں آتے۔آپ فرماتے ہیں : وو۔۔۔اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو میری مدت بعث سے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے یہ مدت دراز کسی کا ذب کو نصیب نہیں ہوئی اور بعض نشان زمانہ کی حالت دیکھنے سے پیدا ہوتے ہیں یعنی یہ کہ زمانہ کسی امام کے پیدا ہونے کی ضرورت تسلیم کرتا ہے اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جن میں دوستوں کے حق میں میری دعائیں منظور ہوئیں اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو شریر دشمنوں پر میری بددعا کا اثر ہوا اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو میری دعا سے بعض خطر ناک بیماروں نے شفا پائی اور انکی شفا سے پہلے مجھے خبر دی گئی اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو میرے لئے اور میری تصدیق کیلئے۔۔۔بڑے بڑے ممتاز لوگوں کو جو مشاہیر فقراء میں سے تھے خوا ہیں آئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا جیسے سجادہ نشین صاحب العلم سندھ جن کے مرید ایک لاکھ کے قریب تھے اور جیسے خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں والے اور بعض نشان اس قسم کے ہیں کہ ہزار ہا انسانوں نے محض اس وجہ سے میری بیعت کی کہ خواب میں انکو بتلایا گیا کہ یہ سچا ہے اور خدا کی طرف سے ہے اور بعض نے اس وجہ سے بیعت کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور آپ نے فرمایا کہ دنیا ختم ہونے کو ہے اور یہ خدا کا آخری خلیفہ اور مسیح موعود ہے اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو بعض اکابر نے میری پیدائش یا بلوغ سے پہلے میرا نام لیکر میرے مسیح موعود ہونے کی خبر دی جیسے نعمت اللہ ولی اور میاں گلاب شاہ ساکن جمالپور ضلع لدھیانہ “ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 70-71) پھر ایک جگہ آپ بیان فرماتے ہیں، لیکن اس سے پہلے یہ بتادوں کہ یہ واقعہ صاحبزادہ سراج الحق صاحب نعمانی جو احمدی تھے کے بڑے بھائی جو سجادہ نشین تھے، پیر تھے انہوں نے اپنے بھائی پیر ( سراج الحق ) صاحب کو خط لکھا کہ میں تو کشف قبور کر وا سکتا ہوں کیا مرزا صاحب بھی کروا سکتے ہیں؟ کشف قبور یہ ہے کہ مردے کے حالات معلوم کر کے دے سکتا ہوں یا اس سے ملاقات کرواسکتا ہوں ، تو اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : وو کشف قبور کا معاملہ تو بالکل بیہودہ امر ہے۔جو شخص زندہ خدا سے کلام کرتا ہے اور اس کی تازہ بتازہ وحی اس پر آتی ہے اور اس کے ہزاروں نہیں لاکھوں ثبوت بھی موجود ہیں اس کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ مردوں سے کلام کرے اور مردوں کی تلاش کرے۔اور اس امر کا ثبوت ہی کیا ہے کہ فلاں مُردے