خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 13
خطبات مسرور جلد 12 13 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جنوری 2014ء اسی طرح تنزانیہ کے مبلغ صاحب لکھتے ہیں کہ جو نا دہند تھے، اُن کو جب کہا گیا تو انہوں نے فوراً اپنے چندے دینے شروع کر دیئے۔اُن کی ضروریات زیادہ تھیں لیکن بعضوں نے ضروریات کو پس پشت ڈالا اور چندوں کی طرف توجہ دی۔امیر صاحب مالی لکھتے ہیں کہ ہمارے معلم عبد القادر نے چندے کی تحریک کی اور اس کی اہمیت میں بتایا کہ چندہ دینے میں بڑی برکت ہوتی ہے۔وہاں کے امام صاحب بڑے غریب آدمی تھے۔سائیکل خریدنے کی بھی اُن میں استطاعت نہیں تھی، اُس نے پوچھا کتنا چندہ چاہئے۔معلم صاحب نے بتایا کہ جو اللہ نے توفیق دی ہے۔اُس کے مطابق دے دیں۔لیکن یہ بتایا کہ جو بھی آپ نے دینا ہے کوشش کریں کہ پھر اُس میں کمی نہ آئے۔امام صاحب نے ایک ہزار فرانک ادا کر دیا۔اور کہتے ہیں ساتھ ہی دل میں یہ سوچا کہ اگر چندے سے برکت والی بات درست ہے تو خدا تعالیٰ اب اس کو سائیکل کے بجائے موٹر سائیکل دے گا۔چنانچہ ابھی چھ ماہ ہی گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں موٹر سائیکل خریدنے کی توفیق عطا فرمائی اور ایک ہزار چندے کی بجائے انہوں نے پینسٹھ ہزار فرانک چندہ ادا کیا۔اسی طرح ہریانہ میں ایک احمدی جن کا بجٹ بارہ ہزار روپیہ تھا۔انہیں چندے کی اہمیت کا بتایا گیا تو انہوں نے کہا کہ میری تنخواہ تو پچاس ہزار روپیہ ماہانہ ہے۔اس لئے اس کے مطابق بجٹ تیار کریں۔چنانچہ انہوں نے اس کے مطابق ادا ئیگی شروع کر دی۔پھر انڈیا کے ایک انسپکٹر وقف جدید لکھتے ہیں کہ جموں کشمیر کی ایک خاتون سکول ٹیچر ہیں۔پورے علاقے میں ان کا چندہ وقف جدید سب سے زیادہ ہے۔اپنی آمد کے لحاظ سے ان کا یہ طریق ہے کہ جب بھی نیا بجٹ بنتا ہے تو پوچھتی ہیں کہ خلیفہ وقت کی طرف سے کیا بجٹ مقرر کیا گیا ہے۔جب بتایا جاتا ہے تو پہلے سے بڑھ کر وعدہ لکھواتی ہیں اور اپنی اولین فرصت میں اُس کو ادا بھی کر دیتی ہیں۔اس سال بھی انہوں نے اپنا وعدہ لکھوایا اور اپنے خاوند مرحوم کی جانب سے ہیں ہزار روپے مزید بھی ادا کئے۔پھر وہاں کے انسپکٹر وقف جدید لکھتے ہیں کہ آسنور جماعت کے ایک شخص خواجہ صاحب ہیں۔جب بھی ان کے پاس چندہ لینے کے لئے گئے تو وہ کوئی نہ کوئی واقعہ اپنی ترقی کا سناتے۔اس مرتبہ اُن کے پاس گئے تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بہت سے غریب دوستوں کو کاروبار سکھایا اور اب وہ لوگ مجھ سے کاروبار میں بہت مقابلہ کرتے ہیں۔تو انہوں نے کہا کہ وہ کاروبار کے مقابلے میں تو میرے سامنے آگئے ہیں اللہ تعالیٰ اُن کے کاروبار میں ترقی دے، لیکن کاش کہ وہ چندہ دینے میں مجھ سے مقابلہ کریں۔کہتے ہیں