خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 14
خطبات مسرور جلد 12 14 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جنوری 2014ء میرا مال تو جب منڈی میں پہنچتا ہے، اگر ریٹ کم بھی ہو تو اللہ تعالیٰ خود بخو داس کا اچھار بیٹ مہیا کر دیتا ہے۔تو عورتوں اور مردوں کے بے شمار واقعات ہیں جو مالی قربانیوں کے ہیں اور جس سے چندے کی اہمیت اُن پر واضح ہوتی ہے۔یہ صرف باہر کے لوگوں کی امداد پر گزارہ نہیں کر رہے بلکہ خود بھی بہت قربانیاں دے رہے ہیں۔اور حتی الوسع یہ لوگ بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہے ہیں ، جیسا کہ ان واقعات سے بھی ظاہر ہے اور یہ سب کچھ ایک احمدی کی اُس روح کے تحت ہے جس کی قرآن کریم نے مالی قربانی کے ضمن میں ہمیں تعلیم دی ہے۔اور جس کی اہمیت حضرت مسیح موعود وعلیہ الصلوۃ والسلام نے اس زمانے میں بیان فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : دنیا میں انسان مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے۔اسی واسطے علم تعبیر الرویاء میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص دیکھے کہ اس نے جگر نکال کر کسی کو دے دیا ہے تو اس سے مراد مال ہے۔یہی وجہ ہے کہ حقیقی اتقاء اور ایمان کے حصول کے لیے فرمایا۔لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران : 93) (کہ) حقیقی نیکی کو ہرگز نہ پاؤ گے جب تک تم عزیز ترین چیز نہ خرچ کرو گے۔کیونکہ مخلوق الہی کے ساتھ ہمدردی اور سلوک کا ایک بڑا حصہ مال کے خرچ کرنے کی ضرورت بتلاتا ہے۔اور ابنائے جنس اور مخلوق خدا کی ہمدردی ایک ایسی شئے ہے جو ایمان کا دوسرا جزو ہے۔جس کے بڑوں ایمان کامل اور راسخ نہیں ہوتا۔جب تک انسان ایثار نہ کرے دُوسرے کو نفع کیونکر پہنچا سکتا ہے۔دوسرے کی نفع رسانی اور ہمدردی کے لئے ایثا ر ضروری شئے ہے۔اور اس آیت میں لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ میں اسی ایثار کی تعلیم اور ہدایت فرمائی گئی ہے۔پس مال کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی انسان کی سعادت اور تقویٰ شعاری کا معیار اور محک ہے۔ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ کی زندگی میں لہی وقف کا معیار اور محک وہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت بیان کی۔اور وہ کل اثاث البيت لے کر حاضر ہو گئے۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 95-96) اللہ تعالیٰ ان تمام قربانی کرنے والوں اور اس روح کو سمجھنے والوں کے اموال ونفوس میں بے انتہا برکت عطا فرمائے۔اب گزشتہ سال کا جو جائزہ ہے وہ پیش کرتا ہوں جو چھپن واں سال تھا اور 2014ء کا ستاون واں سال شروع ہورہا ہے اس کا بھی اعلان کرتا ہوں۔گزشتہ سال میں جو چھپن واں سال تھا اس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید میں چون لاکھ