خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 177 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 177

خطبات مسرور جلد 12 177 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مارچ 2014 ء بعض نادان مولوی لکھتے ہیں کہ غلام دستگیر نے مباہلہ نہیں کیا صرف ظالم پر بددعا کی تھی۔مگر میں کہتا ہوں کہ جبکہ اس نے میرے مرنے کے ساتھ خدا سے فیصلہ چاہا تھا اور مجھے ظالم قرار دیا تھا تو پھر وہ بددعا اُس پر کیوں پڑگئی اور خدا نے ایسے نازک وقت میں جبکہ لوگ خدائی فیصلہ کے منتظر تھے غلام دستگیر کو ہی کیوں ہلاک کر دیا۔اور جبکہ وہ اپنی دعا میں میرا ہلاک ہونا چاہتا تھا تا دنیا پر یہ بات ثابت کر دے کہ جیسا کہ محمد طاہر کی بددعا سے جھوٹا مہدی اور جھوٹا مسیح ہلاک ہو گیا تھا میری بددعا سے یہ شخص ہلاک ہو گیا تو اس دعا کا الٹا اثر کیوں ہوا۔یہ تو سیح ہے کہ محمد طاہر کی بددعا سے جھوٹا مہدی اور جھوٹا مسیح ہلاک ہو گیا تھا اور اسی محمد طاہر کی ریس سے ( اس کی ریس میں جو اس نے کہا تھا ) غلام دستگیر نے میرے پر بددعا کی تھی تو اب یہ سوچنا چاہئے کہ محمد طاہر کی بددعا کا کیا اثر ہوا اور غلام دستگیر کی دعا کا کیا اثر ہوا۔اور اگر کہو کہ غلام دستگیر اتفاقا مر گیا تو پھر یہ بھی کہو کہ وہ جھوٹا مہدی بھی اتفاقا مر گیا تھا محمد طاہر کی کوئی کرامت نہ تھی۔لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِين - اس وقت قریباً گیارہ سال غلام دستگیر کے مرنے پر گذر گئے ہیں۔جو ظالم تھا خدا نے اس کو ہلاک کیا اور اس کا گھر ویران کر دیا۔اب انصافا کہو کہ کس کی جڑھ کاٹی گئی اور کس پر یہ دعا پڑی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَائِرَ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوء (التوبة : 98)۔یعنی اے نبی ! تیرے پر یہ بد نہاد دشمن طرح طرح کی گردشیں چاہتے ہیں۔انہیں پر گردشیں پڑیں گی۔پس اس آیت کریمہ کی رو سے یہ سنت اللہ ہے کہ جو شخص صادق پر کوئی بددعا کرتا ہے وہی بددعا اس پر پڑتی ہے۔یہ سنت اللہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ سے ظاہر ہے۔پس اب بتلاؤ کہ غلام دستگیر اس بد دعا کے بعد مر گیا ہے یا نہیں۔لہذا بتلاؤ کہ اس میں کیا بھید ہے کہ محمد طاہر کی بددعا سے تو ایک جھوٹا مسیح مر گیا اور میرے پر بد دعا کرنے والا خود مر گیا۔خدا نے میری عمر تو بڑھا دی کہ گیارہ سال سے میں اب تک زندہ ہوں اور غلام دستگیر کو ایک مہینہ کی بھی مہلت نہ دی۔(حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 343-345) پھر فصاحت و بلاغت کے نشان کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : براہین احمدیہ میں یہ پیشگوئی ہے کہ تجھے عربی زبان میں فصاحت و بلاغت عطا کی جائے گی جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا۔چنانچہ اب تک کوئی مقابلہ نہ کر سکا۔“ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحه 235)