خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 175
خطبات مسرور جلد 12 175 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مارچ 2014 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام بھی پہنچ رہا ہے۔پھر آپ ایک جگہ ایک نشان کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ : براہین احمدیہ میں ایک یہ بھی پیشگوئی ہے۔يَعْصِمُكَ اللهُ مِنْ عِنْدِهِ وَلَوْ لَمْ يَعْصِمُكَ النَّاسُ۔یعنی خدا تجھے آپ تمام آفات سے بچائے گا اگر چہ لوگ نہیں چاہیں گے کہ تو آفات سے بیچ جائے۔یہ اس زمانہ کی پیشگوئی ہے جبکہ میں ایک زاویہ گمنامی میں پوشیدہ تھا اور کوئی مجھ سے نہ تعلق بیعت رکھتا تھا نہ عداوت“۔(بچائے جانے کا سوال تب ہو سکتا ہے جب کوئی دشمنی ہو۔کسی کو جانتا ہی کوئی نہیں تھا تو دشمنی کیسی۔فرمایا کہ بعد اس کے جب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ میں نے کیا تو سب مولوی اور ان کے ہم جنس آگ کی طرح ہو گئے۔ان دنوں میں میرے پر ایک پادری ڈاکٹر مارٹن کلارک نام نے خون کا مقدمہ کیا۔اس مقدمہ میں مجھے یہ تجربہ ہو گیا کہ پنجاب کے مولوی میرے خون کے پیاسے ہیں اور مجھے ایک عیسائی سے بھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے اور گالیاں نکالتا ہے بد تر سمجھتے ہیں۔کیونکہ بعض مولویوں نے اس مقدمہ میں میرے مخالف عدالت میں حاضر ہو کر اس پادری کے گواہ بن کر گواہیاں دیں اور بعض اس دعا میں لگے رہے کہ پادری لوگ فتح پاویں۔میں نے معتبر ذریعہ سے سنا ہے کہ وہ مسجدوں میں رور وکر دعائیں کرتے تھے کہ اے خدا! اس پادری کی مد کر، اس کو فتح دے۔مگر خدائے علیم نے ان کی ایک نہ سنی۔نہ گواہی دینے والے اپنی گواہی میں کامیاب ہوئے اور نہ دعا کرنے والوں کی دعائیں قبول ہوئیں۔یہ علماء ہیں دین کے حامی اور یہ قوم ہے جس کے لئے لوگ قوم قوم پکارتے ہیں۔ان لوگوں نے میرے پھانسی دلانے کے لئے اپنے تمام منصوبوں سے زور لگا یا اور ایک دشمن خدا اور رسول کی مدد کی۔اور اس جگہ طبعاً دلوں میں گذرتا ہے کہ جب یہ قوم کے تمام مولوی اور ان کے پیرو میرے جانی دشمن ہو گئے تھے تو پھر کس نے مجھے اس بھڑکتی ہوئی آگ سے بچایا۔حالانکہ آٹھ ۸ نو ۹ گواہ میرے مجرم بنانے کے لئے گذر چکے تھے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اُسی نے بچایا جس نے پچیس ۲۵ برس پہلے یہ وعدہ دیا تھا کہ تیری قوم تو تجھے نہیں بچائے گی اور کوشش کرے گی کہ تو ہلاک ہو جائے مگر میں تجھے بچاؤں گا۔جیسا کہ اس نے پہلے سے فرمایا تھا جو براہین احمدیہ میں آج سے پچیس برس پہلے درج ہے اور وہ یہ ہے فَبَراهُ اللهُ مما قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللهِ وَجِيهاً۔یعنی خدا نے اُس الزام سے اُس کو بری کیا جو اس پر لگا یا گیا تھا اور وہ خدا کے نزدیک وجیہہ ہے۔“ (حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 242-243)