خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 174
خطبات مسرور جلد 12 174 کس قدر آمدنی کا دروازہ اس تمام مدت میں کھولا گیا۔خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مارچ 2014 ء (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 219 تا 221) اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ جوانگر ہے اب ساری دنیا میں جاری ہے اور یہاں بھی یہ جاری ہے۔خلافت کی وجہ سے یہاں مستقل بنیادوں پر قائم ہے۔یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کاموں کی ایک اہم شاخ ہے۔اس لئے یہاں لنگر کے جو ذمہ دار ہیں، ضیافت کے جو ذمہ دار ہیں ان کا کام ہے کہ ہر آنے والے کی ضیافت کی طرف بھی خاص طور پر توجہ دیا کریں۔بیشک اسراف جائز نہیں۔منصوبہ بندی صحیح ہونی چاہئے۔لیکن کہیں کنجوسی کا اظہار نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ نگر آپ کا نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لنگر ہے جو جاری ہے۔اس لئے بعض دفعہ ضیافت کی جو ٹیم ہے ان کے بارے میں یا جو عہد یدار ہیں ان کے بارے میں شکایات آجاتی ہیں، تو ان کو دنیا میں ہر جگہ اور خاص طور پر یہاں اس طرف توجہ دینی چاہئے۔اسی طرح ربوہ میں بھی اور قادیان میں بھی۔پھر جماعت کی ترقی کے متعلق اپنے ایک الہام کا ذکر فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” براہین احمدیہ میں اس جماعت کی ترقی کی نسبت یہ پیشگوئی ہے گزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَأَزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقه - یعنی پہلے ایک بیج ہوگا کہ جو اپنا سبزہ نکالے گا۔پھر موٹا ہوگا۔پھر اپنی ساقوں پر قائم ہو گا۔یہ ایک بڑی پیشگوئی تھی جو اس جماعت کے پیدا ہونے سے پہلے اور اس کے نشوونما کے بارہ میں آج سے پچیس برس پہلے کی گئی تھی۔ایسے وقت میں کہ نہ اُس وقت جماعت تھی اور نہ کسی کو مجھ سے تعلق بیعت تھا بلکہ کوئی اُن میں سے میرے نام سے بھی واقف نہ تھا۔پھر بعد اس کے خدا تعالیٰ کے فضل وکرم نے یہ جماعت پیدا کر دی جواب تین لاکھ سے بھی کچھ زیادہ ہے“۔(جس زمانے میں یہ ذکر ہے اس وقت کی (تعداد) بیان فرما رہے ہیں کہ ) میں ایک چھوٹے سے بیج کی طرح تھا جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے بویا گیا۔پھر میں ایک مدت تک مخفی رہا۔پھر میر اظہور ہوا اور بہت سی شاخوں نے میرے ساتھ تعلق پکڑا۔سو یہ پیشگوئی محض خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے پوری ہوئی۔“ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 241) اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت دنیا کے 204 ممالک میں قائم ہے اور کروڑوں کی تعداد میں اللہ کے فضل سے ہے۔اور دنیا کے ہر کونے میں ایم ٹی اے کے ذریعہ سے