خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 161
161 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 مارچ 2014 ء خطبات مسرور جلد 12 صفات کی واقفیت پیدا کرے ایسی واقفیت جو یقین کے درجہ تک پہنچ جاوے۔تب اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا ملہ پر اس کو اطلاع مل جاوے گی اور اس کی رُوح اندر سے بول اُٹھے گی کہ پورے اطمینان کے ساتھ اس نے خدا کو پالیا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایسا ایمان پیدا ہو جاوے کہ وہ یقین کے درجہ تک پہنچ جاوے اور انسان محسوس کر لے کہ اس نے گویا خدا کو دیکھ لیا ہے اور اس کی صفات سے واقفیت حاصل ہو جاوے تو گناہ سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے اور طبیعت جو پہلے گناہ کی طرف جھکتی تھی اب ادھر سے یتی اور نفرت کرتی ہے اور یہی تو بہ ہے۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 237) پھر معرفت الہی کے حصول کے لئے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم کی مزید تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : "سورۃ فاتحہ میں جو پنج ۵ وقت فریضہ نماز میں پڑھی جاتی ہے یہی دعا سکھلائی گئی ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمتَ عَلَيْهِمُ۔تو کسی امتی کو اس نعمت کے حاصل ہونے سے کیوں انکار کیا جاتا ہے۔کیا سورہ فاتحہ میں وہ نعمت جو خدا تعالیٰ سے مانگی گئی ہے جو نبیوں کو دی گئی تھی وہ درہم و دینار ہیں۔ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ کی نعمت ملی تھی جس کے ذریعہ سے ان کی معرفت حق الیقین کے مرتبہ تک پہنچ گئی تھی اور گفتار کی تجلی دیدار کے قائم مقام ہوگئی تھی۔( یعنی جو جتبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکالمہ کی تجلی تھی، اللہ تعالیٰ سے اتنی زیادہ شدت سے اتنی زیادہ قربت پیدا ہوگئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے قائم مقام ہوگئی تھی۔فرمایا: ” پس یہ جو دعا کی جاتی ہے کہ اے خداوند وہ راہ ہمیں دکھا جس سے ہم بھی اس نعمت کے وارث ہو جائیں اس کے بجز اس کے اور کیا معنے ہیں کہ ہمیں بھی شرف مکالمہ اور مخاطبہ بخش بعض جاہل اس جگہ کہتے ہیں کہ اس دعا کے صرف یہ معنے ہیں کہ ہمارے ایمان قوی کر اور اعمال صالحہ کی توفیق عطا فرما اور وہ کام ہم سے کرا جس سے تو راضی ہو جائے۔مگر یہ نادان نہیں جانتے کہ ایمان کا قومی ہونا یا اعمال صالحہ کا بجالانا اور خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق قدم اٹھانا یہ تمام باتیں معرفت کا ملہ کا نتیجہ ہیں۔جس دل کو خدا تعالیٰ کی معرفت میں سے کچھ حصہ نہیں ملا وہ دل ایمان قوی اور اعمال صالحہ سے بھی بے نصیب ہے۔“ (اس کو وہ بھی نہیں مل سکتا۔) ” معرفت سے ہی خدا تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا ہوتا ہے۔اور معرفت سے ہی خدا تعالیٰ کی محبت دل میں جوش مارتی ہے۔جیسا کہ دنیا میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ ہر ایک چیز کا خوف یا محبت معرفت سے ہی پیدا ہوتا ہے۔اگر اندھیرے میں ایک شیر بر تمہارے پاس کھڑا ہو