خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 156 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 156

خطبات مسرور جلد 12 156 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 مارچ 2014 ء حقیقت اسلام کے وسائل اور بھی ہیں جیسے صوم و صلوۃ اور دعا اور تمام احکام الہی جو چھ سو سے بھی کچھ زیادہ ہیں لیکن علم عظمت و وحدانیت ذات اور معرفت شیون وصفات جلالی و جمالی حضرت باری ع اسمه وسیلہ الوسائل اور سب کا موقوف علیہ ہے۔( یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت کا علم، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا علم ، اللہ تعالیٰ کے نشانوں کی معرفت حاصل کرنا، اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت حاصل کرنا ان سب کا انحصار اس بات پر ہے اور یہی ایک ذریعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس طرح جانا جائے جس طرح اس کے پہچانے جانے کا حق ہے۔فرمایا کہ : ” کیونکہ جو شخص غافل دل اور معرفت الہی سے بکلی بے نصیب ہے وہ کب تو فیق پاسکتا ہے کہ صوم اور صلوٰۃ بجالا وے یا دعا کرے یا اور خیرات کی طرف مشغول ہو۔ان سب اعمال صالح کا محرک تو معرفت ہی ہے اور یہ تمام دوسرے وسائل دراصل اسی کے پیدا کردہ اور اس کے بنین و بنات ہیں۔( یعنی کہ اس کے بچے ہیں ) ” اور ابتدا اس معرفت کی پر تو اسم رحمانیت سے ہے۔“ (یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت کی جو ابتدا ہے وہ اس کے اسم یا اس کی رحمانیت کی جو صفت ہے اس سے ہے )۔نہ کسی عمل سے نہ کسی دعا سے بلکہ بلا علت فیضان سے صرف ایک موہبت ہے“۔(یعنی بغیر کسی علت فیضان کے، بغیر کسی فیض پانے کے سبب کے ، صرف اللہ تعالیٰ کی عطا سے یہ ملتی ہے اور یہ رحمانیت ہے۔فرمایا: يرقدانی من يَشَاءُ وَيُضِلُّ مَن يَشَاءُ ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے مگر پھر یہ معرفت اعمال صالحہ اور حسن ایمان کے شمول سے زیادہ ہوتی جاتی ہے“۔( پہلی بات تو یہ کہ یہ معرفت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمانیت سے ملتی ہے لیکن جب یہ معرفت مل جائے تو اس کے بعد کیا ہو اور اس میں آدمی کو پھر کیا کرنا چاہئے۔اعمال صالحہ بجالانے کی ضرورت ہے اور ایمان میں اور خوبصورتی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔جب ایمان کی خوبصورتی ہو گی اور اعمال صالحہ ہوں گے تو پھر اس معرفت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔) ” یہاں تک کہ آخر الہام اور کلام الہی کے رنگ میں نزول پکڑ کر تمام صحن سینہ کو اس نور سے منور کر دیتی ہے جس کا نام اسلام ہے۔آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 187 تا 189) پھر اللہ تعالیٰ کی معرفت، گناہوں سے نجات، نیکیوں کی تو فیق اور دعا کے معیار کے بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:۔اصل حقیقت یہ ہے کہ کوئی انسان نہ تو واقعی طور پر گناہ سے نجات پاسکتا ہے اور نہ بچے طور پر خدا سے محبت کر سکتا ہے اور نہ جیسا کہ حق ہے اس سے ڈر سکتا ہے جب تک کہ اس کے فضل اور کرم سے اس کی