خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 9

خطبات مسرور جلد 12 9 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جنوری 2014ء میں مطلوب تھا ، اس کی وجہ سے وہ گاؤں چھوڑ کے چلا گیا۔پھر نائیجیریا کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ کیمرون کا علاقہ دومبا (Foumban) کفر مسلمانوں کی اکثریت کا علاقہ ہے۔پہلی بار وہاں جلسہ یوم خلافت منعقد کیا گیا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی وہاں کیمرون میں پاکستان سے آنے والے تبلیغی گروپ نے احباب جماعت احمد یہ کونشانہ بنانے کی کوشش کی۔جلسہ یوم خلافت کی خبریں چونکہ ٹی وی اور ریڈیو پر گاہے بگا ہے نشر ہورہی تھیں اس لئے اُن تک بھی اس کی خبر پہنچ گئی۔چنانچہ تبلیغی جماعت کا چوبیس افراد پر مشتمل ایک گروپ جس میں دس افراد براستہ کینیا اور پندرہ افراد کیمرون اور چاڈ کے بارڈر کے ذریعہ وہاں آئے۔اس شہر میں خدا کے فضل سے اب جماعت کی اکثریت ہے۔یہاں کے چیف امام اور اُن کے نائبین امام مع اپنے احباب کے تین سال قبل احمدیت قبول کر چکے ہیں۔تو یہ گروپ جو آیا انہوں نے ہمارے معلم کے ذریعہ رابطہ پیدا کیا۔یہ وہی معلم صاحب ہیں جن کے ذریعہ سے یہاں جماعت کا پودا لگا تھا، گھر گھر پیغام پہنچا تھا۔اُس معلم کی بابت اس تبلیغی جماعتی گروپ نے دریافت کیا۔جس پر معلم صاحب کی اہلیہ نے ان کو بتایا کہ معلم صاحب شہر سے باہر گئے ہوئے ہیں۔اس پر یہ لوگ وہاں سے شہر کی سینٹرل مسجد میں پہنچے اور یہ جو مسجد ہے یہ اللہ کے فضل سے بڑی مسجد ہے اور جماعت احمدیہ کی مسجد ہے۔یہاں انہوں نے چیف امام سے کہا کہ ہم یہاں تبلیغ کرنا چاہتے ہیں اور آپ سب احباب کو جماعت احمدیہ کے متعلق حقائق بتانا چاہتے ہیں۔اس پر ہمارے چیف امام نے ان سے کہا کہ اگر آپ نے جماعت احمدیہ کے خلاف بات کرنی ہے تو میں یہ آپ کو بتا دوں کہ یہ مسجد جہاں آپ کھڑے ہیں یہ جماعت احمدیہ کی مسجد ہے اور ہم سب خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدی مسلمان ہیں۔اس لئے آپ کو ایسا کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے اور آپ سب احباب یہاں سے جا سکتے ہیں۔بہر حال پولیس کو بھی اطلاع کر دی گئی اور انہوں نے اُن کو شہر سے نکال دیا۔اسی طرح آج کل ساؤتھ افریقہ میں پاکستانی مولوی اکٹھے ہوئے ہوئے ہیں۔پاکستان سے ہیں مولویوں کا ایک گروپ ہے۔دہلی انڈیا سے بھی آئے ہوئے ہیں، سعودی عرب سے بھی آئے ہوئے ہیں۔ایک گروہ میں وہاں کے مقامی لوگ بھی ہیں۔جو مسلم جوڈیشل کونسل کے زیر اہتمام کانفرنس میں جماعت کی مخالفت میں پروگرام بنارہے ہیں۔سیرالیون کی بھی یہی رپورٹ ہے۔سیرالیون میں پاکستان سے تبلیغی ملاں اور مصر سے الازہر یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے ملاں اور سیرالیون سے سعودی عرب جا کر تعلیم حاصل کرنے والے سعودیہ کے