خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 118 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 118

خطبات مسرور جلد 12 118 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 فروری 2014ء بیرونی دنیا میں بھی اس کتاب کی تقسیم کی ضرورت ہے۔عموما یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اسلام کا اقتصادی نظام کا نظریہ شاید مودودی صاحب نے پیش کیا تھا۔حالانکہ اس سے بہت پہلے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بڑی عالمانہ قسم کی تقریر فرمائی تھی جو کتابی صورت میں شائع ہوئی ہوئی ہے اور اب اس کا انگلش میں بھی ترجمہ ہو گیا ہے۔جو انگریزی دان احمدی ہیں اُن کو بھی پڑھنا چاہئے اور جولوگ معاشیات میں دلچسپی رکھتے ہیں اُن کو دینی بھی چاہئے۔پھر لالہ رام چند مچندہ صاحب کی اسلام کا اقتصادی نظام“ پر صدارتی تقریر ہے کہتے ہیں کہ میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسی قیمتی تقریر سننے کا موقع ملا اور مجھے اس بات سے خوشی ہے کہ تحریک احمدیت ترقی کر رہی ہے اور نمایاں ترقی کر رہی ہے۔جو تقریر اس وقت آپ لوگوں نے سنی ہے اس کے اندر نہایت قیمتی اور نئی نئی باتیں حضور نے بیان فرمائی ہیں۔مجھے اس تقریر سے بہت فائدہ ہوا ہے۔پھر کہتے ہیں کہ یہ میری غلطی تھی کہ اسلام صرف اپنے قوانین میں مسلمانوں کا ہی خیال رکھتا ہے۔غیر مسلموں کا کوئی لحاظ نہیں رکھتا۔مگر آج حضرت امام جماعت احمدیہ کی تقریر سے معلوم ہوا کہ اسلام تمام انسانوں میں مساوات کی تعلیم دیتا ہے اور مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی ہے۔میں غیر مسلم دوستوں سے کہوں گا کہ اس قسم کے اسلام کی عزت و احترام کرنے میں آپ لوگوں کو کیا عذر ہے؟“ پھر کہتے ہیں ” حضرت امام جماعت احمدیہ کا بار بار اور لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنی نہایت ہی قیمتی معلومات سے پر تقریر سے ہمیں مستفید فرمایا۔( تاریخ احمدیت جلد 9 صفحہ 622-623 مطبوعہ ربوہ ) پس یہ صرف ایک پہلو کی جھلک ہے جو پیشگوئی میں علوم ظاہری و باطنی سے پر ہونے کے بارے میں درج ہے۔حضرت مصلح موعود نے علم و عرفان کا جو خزانہ ہمیں دیا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو پڑھنے کی ہمیں توفیق بھی عطا فرمائے اور جیسا کہ آپ کے مضامین کے عنوانات کی عمومی فہرست میں میں نے بتایا ہے مختلف نوع کے جو مضامین ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں اُن سے بھی استفادہ کرنے کی توفیق دے اور ہم اپنا علم و عرفان بڑھانے والے ہوں۔اس وقت میں نمازوں کے بعد ایک جنازہ بھی پڑھاؤں گا جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک صاحبزادے کا ہے۔یہ حضرت سارہ بیگم صاحبہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے جو بہار کی رہنے والی تھیں۔ان کا نام مکرم صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب ہے جو 17 فروری کو بوقت ساڑھے نو بجے