خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 115
خطبات مسرور جلد 12 115 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 فروری 2014ء تو کہتے ہیں یہ تفصیل ( میں نے ) اس لئے لکھی ہے کہ مجھ پر سے یہ الزام دور ہو جائے کہ میں نے بیعت میں عجلت کی۔میں نے غیروں کی تفسیریں بھی پڑھیں۔پھر تفسیر کبیر پڑھی، موازنہ کیا اور مجھے سمجھ آ گئی۔اور پھر کہتے ہیں اس کے بعد ” بیعت کا فارم بھیج کر میں دعاؤں میں لگ گیا ( کہ کہیں میری بیعت قبول بھی ہوتی ہے کہ نہیں۔اور پھر کہتے ہیں کہ ) اندیشہ غلط نہ نکلا۔میری بیعت قبول کرنے سے پہلے حضور خلیفہ صاحب نے دریافت فرمایا کہ ایک احمدی مسلمان کا فرض ہے کہ وہ حکومت وقت کا بھی وفا دار رہے اور قانون کے اندر رہ کر کام کرے۔میں نے جواب دیا کہ حضور کی تفسیر نے یہ ساری باتیں میرے دل پر نقش کر دی ہیں۔کچھ دنوں کے بعد جب قادیان سے مجھے معلوم ہوا کہ میری بیعت قبول کر لی گئی تو میں سجدے میں گر گیا۔( پھر کہتے ہیں کہ ( تفسیر کبیر میں ایک مقام پر میں نے پڑھا تھا کہ خلیفہ جو مصلح موعود ہوگا وہ اسیروں کی رہائی کا باعث ہوگا۔میں نے حضور سے درخواست کی۔( یہ ابھی تک جیل میں تھے ) کہ وہ میری رہائی کے لئے دعا فرمائیں۔حضور خلیفہ صاحب نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ آپ کی رہائی کے سامان کرے۔اس کے چند ہی دنوں بعد میں رہا ہو گیا۔خلیفہ موعود کی نسبت یہ پیشینگوئی کہ وہ اسیروں کی رہائی کا باعث ہوگا میں اس کا زندہ ثبوت ہوں۔“ (ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 8 صفحہ 159 تا 162 مطبوعہ ربوہ) پھر مغربی مفکرین ہیں۔امریکہ اور یورپ کے مختلف مفکرین ہیں۔اس وقت میں ایک مثال پیش کرتا ہوں۔اے۔جے آر بری (A۔J۔Arberry) جو برطانوی مستشرق ہیں۔عربی ، فارسی، اسلامیات کے سکالر ہیں۔کہتے ہیں ” قرآن شریف کا یہ نیا ترجمہ اور تفسیر ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔(یہ five volume کی بات کر رہے ہیں )۔موجودہ جلد اس کا رنامہ کی گویا پہلی منزل ہے۔کوئی پندرہ سال کا عرصہ ہوا جماعت احمدیہ قادیان کے محقق علماء نے یہ عظیم الشان کام شروع کیا اور کام حضرت اقدس مرزا بشیر الدین محمود احمد کی حوصلہ افزاء قیادت میں ہوتا رہا۔کام بہت بلند قسم کا تھا۔یعنی یہ کہ قرآن شریف کے متن کی ایک ایسی ایڈیشن شائع کی جائے جس کے ساتھ ساتھ اُس کا نہایت صحیح صحیح انگریزی ترجمہ ہو اور ترجمہ کے ساتھ آیت آیت کی تفسیر ہو۔پہلی جلد جو اس وقت سامنے ہے قرآن شریف کی پہلی نوسورتوں پر مشتمل ہے۔شروع میں ایک طویل دیباچہ ہے جو خود حضرت مرزا بشیر الدین نے رقم فرمایا ہے۔اس دیباچہ میں حضرت اقدس نے لکھا ہے کہ جو کچھ اس تفسیر میں بیان ہوا ہے وہ اُن معارف کی ترجمانی ہے جو بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی کتابوں اور مواعظ میں بیان فرمائے یا پھر آپ کے خلیفہ اول یا خود حضرت ممدوح نے جو بانی