خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 114 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 114

خطبات مسرور جلد 12 114 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 فروری 2014ء فرمایا ( اُن کو لکھ رہے ہیں ) اپنا مسلک چھوڑ کر احمدیہ جیسی جماعت میں داخل ہونا ، جس کو تمام علمائے اسلام نے ایک ہو ابنارکھا، کچھ معمولی بات نہیں۔لیکن حق کے کھل جانے کے بعد یہاں خطرات کی پر واہ بھی کسی کو نہ تھی۔تاہم سجدے میں گر کر شب و روز میں نے دعائیں شروع کیں کہ یا اللہ ! مجھے صراط المستقیم دکھا۔کئی ماہ اسی حالت میں گزر گئے۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میری سجدے کی زمین آنسوؤں سے تر ہو جاتی تھی۔مجھے یقین ہے کہ میری دعائیں قبول ہوئیں کیونکہ احمدیت کو سچا سمجھنے کے عقیدے میں مستحکم ہو گیا اور قادیان سے حضرت میاں وسیم احمد صاحب کی خدمت میں ایک خط کے ذریعہ سے میں نے درخواست کی کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔( پھر کہتے ہیں کہ ) میری قید کا بڑا حصہ سکندرآباد جیل میں گزرا۔وہاں کے جیلر ایک مسلمان اور علم دوست بھی تھے۔قیدیوں کی پوری خط و کتابت اُن لوگوں کے علم میں رہتی ہے۔کیونکہ اُن کے دستخط کے بعد ہی قیدیوں کے خطوط روانہ ہوتے ہیں۔اگر چہ یہ بات کچھ اچھی نہ تھی لیکن جرأت کی کمی کے باعث میری یہ کوشش رہتی تھی کہ قادیان کو لکھے ہوئے میرے خطوط حکام جیل کے علم میں نہ آنے پائیں۔مجلس اتحاد المسلمین حیدر آباد ایک بڑی ہی ہر دلعزیز جماعت ہے۔( یہ انڈیا کا حیدرآباد ہے) جیل کا عملہ جمعیت حتی کہ جیل کے سارے ہی قیدی مجھ سے بڑی محبت اور عقیدت سے پیش آتے تھے۔( یہ جو عظیم تھی اس کی وجہ سے، تو کہتے ہیں ) اگر چہ پہریداروں کے سوا مجھ سے کوئی نہ مل سکتا تھا، ان وجوہ سے حکام کے علم میں آئے بغیر میرے خطوط قادیان کو پوسٹ ہو جاتے تھے۔لیکن جو خط قادیان سے آتا تھا وہ بہر صورت جیلر کے علم میں آنا ضروری تھا۔جب قادیان سے بیعت کا فارم آیا تو جیل میں بڑی گڑ بڑ ہوئی۔راز باقی نہ رہ سکا کہتے ہیں ) آخر جیلر میرے پاس آئے اور میرا خط مع بیعت فارم کے اُن کے پاس تھا۔مجھ سے بڑی ہی ہمدردانہ گفتگو کی کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔قرآن کی اس تفسیر کو چھوڑیئے۔میں آپ کو مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا مودودی کی تفسیر قرآن دیتا ہوں۔آپ کے خیالات ٹھیک ہو جائیں گے۔چنانچہ انہوں نے وہ دونوں تفسیر میں لا دیں جو اصل میں ترجمہ تھے اور کہیں کہیں تفسیر تھی۔بیعت کا فارم تکمیل کر کے بھیجنے سے قبل میں نے ان دونوں تفاسیر کا مطالعہ کیا۔تفسیر کبیر کے طالب علم میں اتنی اہلیت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ دیگر تمام تفاسیر پر تنقید کر سکے۔چنانچہ میں نے جیلر صاحب کو بتلایا کہ ان پیدا کہ وہ کر میں دونوں تفاسیر میں کون کون سے مقامات مبہم ہیں۔کہاں کہاں ترجمے کی غلطی ہے اور کہاں کہاں معنی محدود ہیں۔مجھے ایسا کرنے میں آسانی اس لئے ہوئی کہ تفسیر کبیر میں لغت قرآن بھی موجود ہے۔لا يمسه إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔صرف مطہر لوگ ہی قرآن کریم کے مطالب کو سمجھ سکیں گے“۔